اسلام آباد (آن لائن)آئی ایم ایف کی مزید شرائط پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔ وزارت توانائی نے بجلی کی تقسیم کار حکومتی کمپنیوں میں پروفیشنلز کی بھرتی کی ہدایات جاری کر دیں جبکہ پاور ڈویژن نے ڈسکوز کے بورڈذ کے اور چیف ایگزیکیٹوز کو ہدایات پر عملدرآمد کا بھی کہہ دیا ۔ دستاویز کے مطابق ڈسکوز کو چیف فنانشل آفیسر، کمپنی سیکرٹری اور چیف انٹرل آڈیٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ڈسکوز کے افسران کی جگہ مارکیٹ سے ماہرین تعینات کرنے،کمپنیوں کو چیف ہیومن ریسورسز، چیف لیگل افیسر، چیف کمرشل ایڈوائزر اور چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر مقرر کرنے اور چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چیف سپلائی چین مینجمنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ذرائع وزارت توانی کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی ڈسکوز میں سرکاری افسران کے ذریعے بہتری کی تجویز مسترد کر دی تھی، وزات توانائی کی تجویز تھی کہ ڈسکوز میں بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سرکاری افسران کی زیر صدارت مانیٹرنگ یونٹ قائم کیے جائیں جبکہوزارت خزانہ نے تجویز کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ماہرین کے ذریعے ڈسکوز کو چلانے کی تجویز دی اور وفاقی کابینہ نے پاور ڈویڑن کو ڈسکوز میں پروفیشنلز کی تعیناتی کی ہدایات جاری کیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معائدے کے تحت 304 حکومتی کمپنیوں کا انتظام لائن منسٹریز نے نکال کر وزارت خزانہ کے زیر انتظام کام کرنا ہے.
Load/Hide Comments



