کراچی(آن لائن)ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمامصطفی کمال کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد جس پارٹی کو بھی اپنا وزیراعظم بنانا ہے تواسے ایم کیو ایم کے ووٹ کی ضرورت پڑیگی۔ ماضی میں بھی ہمارے ووٹوں کی ضرورت ہر سیاسی جماعت کو پڑتی رہی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم جس بھی سیاسی پارٹی سے مذاکرات کررہے ہیں اس میں ہم صرف ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات کررہے ہیں۔ہم اپنے ووٹصرف 3 آئینی ترامیم کے بدلے کسی بھی سیاسی جماعت کو دینے کیلئے تیار ہیں، ایم کیو ایم کے ایجنڈوں میں کوئی وزارت کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری آج کل اپنی الیکشن کمیپین پنجاب میں چلا رہے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں جبکہ کراچی میں پیپلزپارٹی کی حکومت مسلسل 15سال سے اقتدار میں ہے۔شہر کراچی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کراچی کی ترقی آپ کے سب کے سامنے ہے۔ہم اگر حکومت میں گئے یا حکومت کا حصہ بنے تو ہمارا مطالبہ ہوگا کہ اس ملک میں 10سال کیلئے ہیلتھ اور تعلیم ایمرجنسی لگائی جائے۔ جی ڈی پی میں پورے بجٹ کا 2.5 حصہ ان دو شعبوں کیلئے لازمی مختص کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں 100سے زائد نئے شہر بنانا چاہتے ہیں۔ چھوٹے شہروں سے لوگ بڑے شہروں کی طرف رخ کرتے ہیں یہی پوری دنیا کا اصول ہے اگر سارا ملک صرف تین یا چار شہروں میں آ جائے تو ان شہروں کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ایم کیو ایم کا منشور خالصتا لوگوں کیلئے ہے۔ مصطفی کمال کامزید کہنا تھا کہ اب انتخابی موڈ میں آ چکے ہیں تمام سیاسی پارٹیوں نے صف بندی کر لی ہے۔ انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئیں ہیں، ایم کیو ایم نے پانچ ماہ سے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے، ایم کیو ایم نے جو منشور پیش کیا وہ سب نے دیکھا، ہم پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ٹی ایکسپورٹ کے شعبے میں بہت پیچھے ہے جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک نے اس شعبے پر توجہ دی آج دنیا بھر کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔انڈیا کی آئی ٹی ایکسپورٹ 270بلین ڈالر ہے۔ ایم کیو ایم اس ملک میں یونیورسٹیز میں ایسا تعلیمی نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جس کی دنیا بھر میں ضرورت ہے۔ مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا کہ آج ہماری یونیورسٹیز صرف بے روزگار نوجوان پیدا کرنے کی آماج گاہ بن گئیں ہیں۔
Load/Hide Comments



