نوشہرہ(آن لائن )پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے مرکزی چیئرمین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے تحریک انصاف کے کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔تحریک انصاف کے جعلی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق یہی فیصلہ آنا تھا۔تحریک انصاف کا 2010 اور 2011کے بعد کوئی اانٹر ا پارٹی الیکشن صحیح نہیں ہوا۔2010کے بعد پارٹی الیکشن کے بجائے سلیکشن ہوئی۔ایک پارٹی اپنے اندر جمہوریت پیدا نہیں کرسکتی تو ان سے جمہوریت کی کیا توقع ہوگی۔الیکشن میں تحریک انصاف کے تمام امیدواران کی حیثیت آزاد امیدواران کی ہوگئی،آزاد امیدوار ان کے کسی کے کام نہیں آ سکیں گے۔اگلے پانچ سال میں تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ہماری پارٹی نئی پارٹی ہے پورے خیبرپختونخوا میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔پورے خیبرپختونخوا میں تقربنا 70فیصد حلقوں سے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے خواصے کلے پیر سباق میں ورکرز کنونشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پرویز خٹک نے کہا عمران خان کی حکومت اگر قائم تھی تو میری وجہ سے تھی میں نے راہیں جدا کردیں تو نہ عمران رہا اور نہ ان کی حکومت اور انتخابات میں تو عمران خان اور انکی پی ٹی آئی کا خیبر پختونخواہ سے مکمل صفایا کرکے ہی دم لوں گا، اسلام کے نام پر ووٹ مانگنے والوں نے ووٹ لیکر ہمیشہ اسمبلیوں میں پہنچ کر غریب عوام کو بھول کر صرف اور صرف لوٹ مار کیا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ہے یہ ساری دولت اسی لوٹ مار کی ہے اسلام کے ٹھیکیداروں کو اپنی دور حکومت میں آئمہ مساجد نظر نہیں آئے تھے جب میں وزیر اعلیٰ بنا تو میں نے مساجد کے آئمہ کے لئے وظائف دینے کی منظوری دی جو آج بھی جاری و ساری ہے، عمران خان خیبر پختونخواہ میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے خلاف تھا ان کی سوچ یورپ اور امریکہ کا تھا وہ اس صوبے کے غریب عوام کے مسائل سے بے خبر تھے اور نہ ان کو غریبوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی تھی اس لئے میں نے عمران خان سے اپنی راہیں جدا کردی، پی ٹی آئی والے ضلع نوشہرہ میں ایک سیٹ جیت کر دیکھائیں جب نوشہرہ میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا تھا وہ میری سیاسی بصیرت کی وجہ سے کیا تھا میری سیاسی جنگ پی ٹی آئی سمیت تمام ان سیاسی جماعتوں سے ہے جس نے لوٹ مار، اقرباپروری اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پرویز خان خٹک نے مزید کہا کہ نوشہرہ کے عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کے ایم پی اے نے کہا تھا کہ میں صوبے کا خزانہ نوشہرہ لاوں گا کہا ں ہے وہ خزانہ ہاں خزانہ لایا اور اپنی جیبوں میں ڈالا وہ ایم پی اے ایک ترقیاتی منصوبہ تو دیکھائیں کونسا منصوبہ ان کے ترقیاتی فنڈ سے شروع، یا مکمل ہوا ہے یہ سارے ترقیاتی منصوبے میرے دور حکومت کے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ میرا مشن عوامی خدمت، اور میرٹ کی بالادستی ہے جو میں نے اپنی دور وزارت اعلیٰ میں تمام سرکاری اداروں میں اصلاحات کرکے ثابت کردیا تھا پولیس سے کرپشن کا خاتمہ، محکمہ صحت میں صحت کارڈ سے غریبوں اور ان کے بچوں کا مفت علاج معالجہ،پٹوار سسٹم کا جدید خطوط پر استوار کرنا سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوارا کرنا اور ان کی حاضری پورے صوبے میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بنانا میری ترجیحات تھی اور کردی، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ کرپٹ پارٹی کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس لئے اپنی پارٹی بنائی کیونکہ اپنی 40سالہ سیاسی زندگی میں بہت سی پارٹیوں کے ساتھ رہا لیکن وہ سب کے سب کرپٹ تھی جس کی وجہ سے میں اکثر ان سے راہیں جدا کردیتا اب نوشہرہ کے عوام پگڑی کا نشان یاد رکھے کیونکہ یہی پگڑی اس صوبے کی اقتدار کی اصل حقدار ہے اور صوبے کی حکمران جماعت بھی اسی پگڑی کے نشان پر انتخاب لڑنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین ہی ہوگی۔پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے ورکرز کنونشن سے ابراہیم خٹک، اور پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما معتصم بااللہ نے بھی خطاب کیا جبکہ پیر سباق سے معتصم بااللہ کی قیادت میں ایک سینکڑوں کی تعداد میں کارکنوں نے کنونشن میں شرکت کی.
Load/Hide Comments



