اسلام آباد(آن لائن)تحریک انصاف کے وکیل نیاز اللہ نیازی نے لائیور نشریات کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان پرسنگین الزام عائد کردیا تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الزام تردید کر دی جبکہ نوٹس دینے پر وکیل علی ظفر نے معذرت کرلی۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے کہا کہ انٹراپارٹی الیکشن میں آپ کو یا حامد خان کو کیوں نامزد نہیں کیا گیا، سب نئے نئے لوگ پی ٹی آئی میں آ گئے، پرانے لوگ کہاں گئے، جب ایک دم سے نئے چہرے آگئے، تو کیا یہ ہو سکتا ہے سیاسی طور پر جماعت کو ہتھیا لیا گیا ہو۔اس دوران وکیل نیاز اللہ نیازی نے چیف جسٹس سے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں نئے چہرے کیسے آئے، آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، میں تین سال تک آپ کے سامنے پیش ہوتا رہا ہوں،انہوں نے چیف جسٹس پر الزام عائد کیا کہ میرا بیٹا آپ کے پاس لاء کلرک کا انٹرویو دینے آیا آپ نے ان سے پی ٹی آئی کے سوالات پوچھے، مجھے علم ہے میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔جس پرچیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے علی ظفر سے کہا کہ کیا ہم انھیں نوٹس جاری کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ میں اس کی جگہ معذرت کرتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ براہ راست نشریات چل رہی ہے،نیازاللہ نیازی کا بیٹا کبھی میرے پاس انٹرویو دینے ہی نہیں آیا،ہم سوال سمجھنے کیلئے پوچھتے ہیں، اگر ایسا رویہ رکھنا ہے تو ہم کیس ہی نہیں سنتے تاہم وکیل علی ظفر کی معذرت کے بعد سماعت کے دوران وقفہ کر دیا گیا.
Load/Hide Comments



