حکومت کی یہی روش رہی تو ان کے ساتھ چلنا مشکل ہوگا،اختر مینگل

کراچی/کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ اگر حکومت کی یہی روش رہی تو ان کے ساتھ چلنا مشکل ہوگا،وزیراعظم کو وقت دیاہے اگر وہ ڈیلیور نہیں کرسکے تو پھر ہم اپنا فیصلہ کرینگے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے مطابق گزشتہ شب سندھ اسمبلی کے باہر سندھ پولیس کی جانب سے لاپتہ افراد کیلئے دئیے گئے دھرنے پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف رات گئے سردار اختر جان مینگل نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے رابطہ کیا سردار اختر مینگل نے سندھ اسمبلی کے سامنے ہونے والے واقع کیخلاف شدید مذمت کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا سردار اختر مینگل نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی یہی روش اور روایت رہی تو حکومت کے ساتھ چلنا مشکل ہوگا جس پروفاقی وزیر داخلہ اوروزیراعلیٰ سندھ نے تمام گرفتار افراد کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے واقعہ پر انکوائری کرنے کا حکم دیا اس کے بعد سردار اختر جان مینگل اور ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی کی خصوصی ہدایت پر رات کو زبیر کلمتی کی قیادت میں بی این پی کے رہنماؤں اور ورکروں کی کثیر تعداد پولیس تھانہ پہنچ گئی اور تمام گرفتار بلوچوں کے رہا ہونے تک وہیں تھے، اس موقع پر لواحقین نے پارٹی رہنماں کا شکریہ ادا کیا۔دوسری طرف سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ شیریں مزاری نے اپنے بیان میں سندھ پولیس کی جانب سے احتجاج پر بیٹھے بلوچوں پر تشدد پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت میں بربریت عروج پر ہے جوشرمناک وقابل مذمت ہے انہوں نے سرداراختر مینگل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ حکمرانوں کا حصہ ہیں تو اب خاموشی کیوں ہے؟ جس پر ردعمل دیتے ہوئے سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ دیکھو کون بول رہا ہے میڈم آپ 3 سال سے زائد عرصے تک انسانی حقوق کے وزیر رہے، آپ نے سوائے یہ کہنے کے کیا کیا کہ لاپتہ افراد کا بل غائب ہو گیا؟ محسن داوڑ اور میں نے آپ سے جبری گمشدگی بل پاس کرانے کا کہا، آپ نے اس کی مخالفت کی، حکومت میں ہوتے ہوئے آپ کے ہاتھ بندھے ہوں گے میرے نہیں ہے،آج جو لوگ دعویٰ کررہے ہیں کہ سرداراخترمینگل خاموش ہے تو یہ صرف سیاسی فائدے کیلئے پروپیگنڈہ کررہے ہیں میں اپنے عوام کو جوابد ہوں ہم نے وزیراعظم کو وقت دیاہے اگر وہ ڈیلیور نہیں کرسکے تو پھر ہم اپنا فیصلہ کرینگے۔پاکستان تحریک انصاف نے جبری گمشدگی کے ہمارے بل کی مخالفت کی اب سیاسی فائدے کیلئے لاپتہ افراد کی وکالت کررہے ہیں امید ہے کہ جب وہ دوبارہل انسانی حقوق کی وزیر بنیں گی تو وہ اپنی بیٹی کی طرح لاپتہ افراد کیلئے آواز بلند کریگی۔