2023ء میں مسلح ڈکیتیاں،135شہریوں کا قتل پیپلز پارٹی و نگراں حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے،حافظ نعیم الرحمن

کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سال 2023 میں شہر میں مسلح ڈکیتیوں و لوٹ مار کی واراتوں میں مسلسل اضافہ اور دوران ڈکیتی مزاحمت پر نوجوانوں کی نمایاں تعداد سمیت 135شہریوں کا مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل اور 1150کا زخمی ہونا‘پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت، موجودہ نگراں حکومت اور محکمہ پولیس کی نا اہلی و ناکامی کا ثبوت ہے۔ پورا سال کراچی کے شہری مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹتے رہے، قتل ہوتے رہے اور ان کی جان ومال کا کوئی تحفظ نہیں کیا جاسکا۔ ایک سال کے دوران مزاحمت کی 1100سے زائد وارداتوں کا ہونا حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ پیپلز پارٹی 15سال حکومت کرنے کے باوجود شہر میں مسلح ڈکیتیوں اور جرائم پیشہ عناصر کے نیٹ ورک کو ختم نہ کرسکی۔ نگراں حکومت اور نئے آئی جی نے بھی دعوے تو بہت کیے لیکن نتیجہ صفر ہی رہا اور عوام کے اندر بے چینی و اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس آج بھی موجود ہے۔ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں میں تاجر، دکاندار، طالب علم، عالم دین، سرکاری افسران، پولیس اہلکار، محنت کشوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری شامل ہیں،جن میں نوجوانوں کی تعداد نمایاں طور پر بہت زیادہ ہے جو انتہائی تشویشناک اور قابل ِ توجہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام کا کوئی پْر سان ِ حال نہیں، حکومت نے عوام کو مسلح ڈکیتوں، جرائم پیشہ عناصر اور پولیس میں موجود ان کی پشت پناہی کرنے والی کالی بھیڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ کسی بھی حکومت اور حکمران پارٹی نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا۔ عوام8فروری کو انتخابات میں ان لوگوں کو ووٹ دیں جو کراچی میں امن و امان کا قیام یقینی بنائیں اور شہریوں کے مسائل حل کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 میں لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر مسلح ڈکیتوں کی فائرنگ سے 118 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ سال 2022 کے مقابلے میں سال 2023 میں لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر شہریوں کو قتل کرنے کی وارداتوں میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے،سال 2023 میں سب سے زیادہ ضلع شرقی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں 35 شہری جاں بحق ہوئے۔ضلع وسطی میں ڈاکووں کے ہاتھوں 26 افراد لقمہ اجل بنے، دوران لوٹ مار قتل کی وارداتوں کی تعداد کے اعتبار سے ضلع غربی کا تیسرا نمبر رہا،ضلع غربی 23 افراد چھینا جھپٹی کے دوران قتل کیے گئے، ضلع کورنگی میں بھی 18 افراد ڈاکووں کی گولی کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ضلع ملیر میں ڈکیتوں کی فائرنگ 15 اور ضلع کیماڑی میں 14 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ ضلع سٹی اور ضلع جنوبی میں بھی ڈاکوؤں نے مزاحمت پر 2 دو شہریوں کو قتل کیا.