اسلام آباد (آن لائن) پی آئی اے کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا، نجکاری بھی کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ۔پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی اے اپنے 260 ارب روپے کمرشل لونز اور اس پر سود کی ادائیگی سے بھی قاصر ہے ۔وزارت خزانہ نے پی آئی اے کیلئے کسی بھی فنڈنگ کو زیرغور لانے سے بھی انکار کردیا،پی آئی اے کی نجکاری میں کئی قانونی عوام اور قرضوں کی واپیس بڑی رکاوٹ ہے۔وزیرنجکاری فواد حسن فواد جنوری میں پی آئی اے سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں،نجاری کمیشن کی طرف سیفنانشل کنسلٹنٹ بھی ہائیر ہوچکا ہے۔ آرنسٹ اینڈ ینگ سترلاکھ ڈالرز میں کنسلٹنٹ ہائیر ہوئے تھے،نجکاری کمیشن کو فنانشل کنسلٹنٹ کی پہلی رپورٹ بھی موصول ہوگئی،نجکاری کمیشن پی آئی ایکیلئے مقرر کیگئے فنانشل کنستلنٹ کو 30 فیصد رقم کی ادائیگی بھی کرنے والا ہے،کنسلٹنٹ کی مکمل فیس میں 25فیصد ساڑھے 17 لاکھ ڈالرز کی ترسیل کا عمل بھی مکمل ہوگیافرن بت فیز1پروجیکٹ چارٹر،عملدرآمد پلان اورقانونی عمل نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا۔کنسلٹنٹ دوسرے فیزمیں شیڈول آف ارینجمنٹ پلان پیش کرے گا جبکہ تیسرے فیزمیں کمپنی فروخت کا فائنل منصوبہ پیش کریگی تیسرے مرحلے کے لئے پاکستان کنسلٹنٹ کو ساڑھے چوبیس لاکھ ڈالرزدیگا،اگر نجکاری کے عمل میں رکاوٹ آئی تو پاکستان کو 70لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے 29 میں سے 15 جہاز پرواز کے قابل ہیں، پی آئی اے کے ورکنگ جہازوں میں 6بوئینگ 7778 ائیر بس اے 320شامل ہیں،ایک اے ٹی آر طیارہ بھی شامل، 1 ائیربسز320 دو سال سے انڈونیشنا میں کھڑا ہے.
Load/Hide Comments



