اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے یہ فیصلہ بنچ نامکمل ہونے کی وجہ سے کیاہے۔عدالت نے کہاہے کہ اس کیس کو تین رکنی بنچ سے کم کابنچ نہیں سن سکتاممکن ہے اس کیس میں کوئی لارجر بنچ سنے۔ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی درخواست کے اندر بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،جس پر جواب میں وکیل لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نیکہا کہ اگر بروقت کیس درج ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی۔جسٹس اطہرمن اللہ اور لطیف کھوسہ کے درمیان یہ مکالمہ بدھ کے روز ہواہے۔سپریم کورٹ میں توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کیس کی سماعت ہوئی،قایم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔اس دوران تحریک انصاف کے وکلا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں 2درخواستیں دائر کی ہیں،بانی پی ٹی آئی کیخلاف فیصلے سے متعلق معطلی کی استدعا کی ہے،لیول پلیئنگ فیلڈ معاملے میں بھی توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کے بارے میں آفس سے معلومات حاصل کرلیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے احاطے میں میرے سٹاف سے فائل چھین لی گئی، دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس نے کہاکہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگا یا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ تو انصاف سے رسائی حاصل کرنے سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ کی درخواست کے اندر بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس درج ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،وکیل شہباز کھوسہ معمول کے مقدمات مکمل ہونے کے بعد روسٹرم پر آگئے اورکہاکہ توشہ خانہ کیس میں نااہلی ختم کرنے کی درخواست کو تین رکنی بنچ کے سامنے مقرر کر دیں۔جسٹس طارق نے کہاکہ اسلام آباد میں صرف دو ہی ججز دستیاب ہیں، توشہ خانہ کیس کم از کم تین رکنی بنچ کو سننا چاہیے، اس ہفتے توشہ خانہ نااہلی کیس کی سماعت ممکن نہیں ہے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ نااہلی سے متعلق فیصلہ معطل ہونے سے سزا معطل نہیں ہوتی، ہمارے سامنے درخواست ہے کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل ہوا تو سزا بھی ختم ہو، فیصلہ معطل ہونے سے سزا ختم ہونے کی کوئی عدالتی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہے۔وکیل شہبازنے کہاکہ مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف فیصلے کے ساتھ سزا بھی ختم کی گئی تھی، پوری قوم اس کیس کو دیکھ رہی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو تین سال نااہل کیا گیا، عدالت دیکھے کہ کیسے ہمایوں دلاور نے ایک ہی دن میں پانچ بار سماعت کر کے سزا سنائی،جسٹس اطہرنے کہاکہ آپ ایسی درخواست لے کر آگئے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی،جسٹس طارق نے کہاکہ آپ کی درخواست کو دو رکنی بنچ صرف خارج کر سکتا ہے، کر دیں؟دو رکنی بنچ آپ کو عبوری ریلیف بھی نہیں دے سکتا کیونکہ ہائیکورٹ میں ڈویڑن بنچ کا فیصلہ ہے،کیا پتا کہ یہ کیس اہم نکات سے متعلق ہو اور اس کی سماعت پانچ رکنی بنچ کرے، اگلے ہفتے قاضی فائز عیسی صاحب بھی آجائیں گے،وکیل نے کہاکہ عدالت ججز بلا کر ابھی بھی بنچ بنا سکتی ہے، جسٹس طارق مسعود نے کہاکہ ججز یہاں دستیاب نہیں آپ بتا دیں کس کو بٹھا کر سماعت کریں؟ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔
Load/Hide Comments



