سال 2023،سپریم کورٹ میں نئی روایات قائم

اسلام آباد (آن لائن)17 ستمبر2023 کوچیف جسٹس کا حلف اٹھانے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نئی روایات قائم کی ہے۔ آئین اور قانون کی عملداری سمیت عدلیہ میں اصلاحات اور شفافیت لانے کا فیصلہ کیا ہے، اعلیٰ عدلیہ کے احتساب کے ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کوفعال کردیا۔کئی اہم مقدمات کے فیصلوں کی وجہ سے ایک متحرک چیف جسٹس کے طور پے سامنے آئے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خط کے ذریعے چیف جسٹس کو دستیاب ایک مرسیڈیز اور لینڈ کروزر کو بھی نیلام کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 17 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مقدمہ کی سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا جس نے پہلی سماعت 18 ستمبر کو کی. چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کھلی عدالت میں اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کو تنازعات سے بچانے کیلئے سپریم کورٹ کے دو سینئر جج صاحبان کی مشاورت سے آئیندہ تمام بینچز تشکیل دیں گے اور انہی ججز کی مشاورت سے مقدمات مقرر ہوں گے. اٹھارہ ستمبر کو ہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فل کورٹ کا اجلاس طلب کیا جس میں مقدمات مقرر کرنے کے حوالے سے طریقہ کار پر مشاورت اور سپریم کورٹ کاروائی کی لائیو کوریج کا فیصلہ بھی کیا۔ فل کورٹ نے 11 اکتوبر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو درست قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کے بینچز کی تشکیل اور مقدمات کے مقرر کرنے کے اختیارات سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل کمیٹی کو تقویض کردیئے. چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وکلاء کے درینہ مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل اور اٹارنی جنرل پاکستان سے مقدمات کے مقرر کرنے کے حوالے سے مشاورت کا ابھی آغاز کیا اور سپریم کورٹ میں مقدمات کے مقرر کرنے کے حوالے سے ترجیحات طے کیں. چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے مرتبہ ججز تقرری کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن اجلاس کی کاروائی کی تفصیلات پبلک کی گئیں جبکہ ججز کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے والے جوڈیشل کونسل کی کاروائی کا بھی اعلامیہ جاری کیا گیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر کونسل کی کاروائی کو کھلی عدالت میں چلایا گیا۔