اسلام آباد (آن لائن)آئی ایم ایف کی غریبوں اورمڈل کلاس ملازمین پر ٹیکس اضافہ کرنے کی تجاویز سامنے آگئیں، تنخواہ دار اور کاروباری پر آمدنی کے لحاظ سے عائد ٹیکس کی مختلف حدود کم تجویز کا مقصد محصولات کے حجم کو دگنا کرنا ہے،تجویز سے درمیانی تنخواہ والا اور مڈل کلاس کاروباری زد میں آئیگا۔حکومت کو کئی اشیا پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے،آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس کی حدود کو سات سے کم کرکے چار کیا جائے،تنخواہ داروں کی سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 2.5فیصد سے 35 فیصد تک ہے، گزشتہ سال ایف بی آرنے تنخواہ داروں سے 264 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، دولاکھ سے تین لاکھ روپے تک کی آمدن والوں سے سب زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے،آمدنی کی حدود مزید ہوں تو سب سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ بھی ان پر پڑے گا۔آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کو 11 کھرب روپے محصولات کا ہدف ملا ہے،اس ہدف میں سے 4 کھرب 80 ارب روپے براہ راست ٹیکس کی مد میں وصول کیے جائیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکسان ترجیحی سیلز ٹیکس کو بھی ختم کرے، اس سے بھی مزید بے شمار اشیاٰ پر ٹیکس کی شرح بڑھ جائیگی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے وفاقی حکومت کو ان تجاویز سے زبانی طور پر آگاہ کیا ہے،ایف بی آر ان تجاویز کو قبول کرنے میں تردد کا شکار ہے کیونکہ ملک میں تنخواہ دار طبقے پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکسز عائد ہیں،ٹیکس کی حدود کو 7 سے کم کرکے 4 کیاگیا تودرمیانے تنخواہ گزاروں پر ٹیکس بوجھ بڑیگا۔تنخواہ داروں کی 50 ہزار روپے تک کی آمدنی تک پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔تنخواہ داروں کی لاکھ روپے آمدنی پر 2.5 فیصد، دو لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد،تین لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 22.5 فیصد ٹیکس،پانچ لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس کی شرح 27.5فیصد ہے اور پانچ لاکھ روپے سے اوپر کی تمام آمدنی پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد ہے۔
Load/Hide Comments



