فنڈز مل گئے،اب الیکشن میں کسی قسم کی تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں،راجہ پرویز اشرف

فیصل آباد(آن لائن) ا سپیکر قومی اسمبلی وسابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کو مطلوبہ فنڈز جاری ہوچکے ہیں اب الیکشن میں کسی قسم کی تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ انتخابات میں پہلے ہی بہت تاخیر کاشکار ہوچکے ہیں، الیکشن سے پہلے کوئی کیسے وزیراعظم ہو سکتا ہے یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے اس کا کسی کو فائدہ نہیں بلکہ پی ایم ایل این کو اس کا نقصان ہو رہا ہے، ملکی مسائل کا حل آزادانہ، غیرجانبدارانہ ومنصفانہ اور شفاف انتخابات میں ہے، ہمیں ایک ایسے انتخابات کے انعقاد کی کوشش کرنی چاہیے جو کسی لحاظ سے بھی متنازعہ نہ ہوں اور ایسے خوشگوار ماحول میں منعقد ہوں جہاں نفرتیں کم اور ماحول پرسکون وپرامن ہو، پی پی پی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور اس کی کوشش ہوگی کہ موزوں اور مضبوط و اچھی شہرت کے حامل امیدوار میدان میں اتارے جائیں، الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ہی پی پی پی بھرپور انتخابی مہم شروع کرے گی اور بلاول بھٹو سمیت تمام قائدین بڑے بڑے شہروں کے دورے اور عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے جس کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ آن لا ئن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے ضلعی صدر محمد اعجاز چوھدری کی رہائش گاہ سمندری روڈ چیئرمین بلا ول بھٹو زرداری کی فیصل آبا د آمد کے حوا لے سے اجلا س سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان،صوبائی جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی،رائے شہادت کھرل،ملک شمشیر وٹو،بلال فاروق سعید ودیگر امیدواران،ایم پی ایز،ایم این ایز و ٹکٹ ہولڈرز موجود تھے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عوام کے ووٹوں سے جمہوری حکومت منتخب ہوکر آئے گی تو وہ بہت بہتر انداز میں ملک کو ہر قسم کے بحرانوں سے نکال سکے گی۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ ہم مل کر انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ، شفاف بنائیں راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ انتخابات کا مقصد آپس میں الجھنا نہیں اور نہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھانے کی بات کرنی ہے تو اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت کا مؤقف بڑا واضح ہے اوران کایہ دورہ اس لحاظ سے بھی بڑا اہم ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے لوگوں تک اپنا اور پارٹی کا مؤقف پہنچانے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا دورہ فیصل آباد اپنا پیغام پارٹی کے دوستوں،نوجوانوں، طلباو طالبات،کارکنوں اور ہم خیال دوستوں تک پہنچانے کا موقع بھی میسر آیااور انہیں بھی بتایا گیا کہ ان کاپیغام یہی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں ایسا ماحول بنانا ہے جس میں کسی کو کوئی شکایت نہ ہو اور یہ معاملہ پاکستان کے عوام پر چھوڑ دینا چاہیے وہ جس کو بھی پسند کریں۔انہوں نے انتخابی اتحادوں کے بارے میں کہا کہ انتخابی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں کیونکہ ہر سیاسی جماعت کا اپنااپنا منشور ہوتا ہے لیکن حتمی فیصلہ عوام کا ہی ہوتا ہت اور ہمیں چاہیے کہ ہم ان کو فیصلہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے اسلئے اب بظاہر کوئی ایسی ٹھوس وجہ نہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرنے کی بات کی جائے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ملک میں انتخابات کا بروقت ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اب ہمارے پاس الیکشن کروانے کے سوا کوئی راستہ نہیں کیونکہ محدود وقت کیلئے آنیوالی نگران حکومت بڑے اور لانگ ٹرم فیصلے نہیں کرسکتی اور نہ ہی وہ کوئی پالیسی سازی کرسکتی ہے تاوقتیکہ پارلیمنٹ مکمل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد تو بنتے رہتے ہیں الیکشن کے الائنسز بھی بنتے رہتے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تو آئی جے آئی سے لے کے اب تک بہت سارے اتحاد بنے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جیتتا تو وہی ہے جس کو عوامی تائید حاصل ہوتی ہے جس کو عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور جہاں تک آپ نے کہا ہے کہ کوئی پہلے ہی ڈکلیئر ہو جائے وزیراعظم تو نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، الیکشن سے پہلے کوئی کیسے وزیراعظم ہو سکتا ہے یا اس کو کہا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی انتخابی ٹیکٹس کا ایک حصہ ہوتا ہے کہ اپنا ایک ماحول بنانا ہوتا ہے ایک پرسپشن کری ایٹ کرنی ہوتی ہے ایک تاثر دینا ہوتا ہے کہ ہم زیادہ ہیں ہم آ رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے اس کا کسی کو فائدہ نقصان ہو یا نہ ہو پی ایم ایل این کو اس کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی کارکن کے طور پر میں سوچتا ہوں کہ شاید ان کے حق میں یہ بات نہیں جا رہی اور اس طرح کی جو باتیں کرتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان کی کل پی ایم ایل این کی کوئی لیڈرشپ نے یہ بات کی ہے ان کے جو بھی نمائندگان یہ بات کرتے ہیں وہ میں سمجھتا ہوں اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔