کوئٹہ (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ کا ہماری پارٹی کا تاریخی مطالبہ ہے،نفرت، تقسیم اور انا پرستی کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں میاں صاحب ووٹ کو عزت دلوائیں (ن) لیگ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی افسوسناک باتیں نہ کرے سانحہ 9مئی جیسے واقعات ٹروتھ کمیشن کے ذریعے معاملات کو دیکھتے ہوئے بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں گے۔ ناراض بلوچوں سمیت دیگر معاملات اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے جو سنگین جرائم، دہشت گردی وغیرہ میں ملوث ہیں انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا افغانستان کو اپنے آپ کو ایک ریاست اور حکومت کے طور پر دنیا میں تسلیم کرانے کے لئے معاملات کو بہتر طور پر حل کرنا ہوگا بصورت دیگر یہ دہشت گردانہ کارروائیاں دونوں ممالک اور عوام کے مفاد میں نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ کا 4روز کا دورہ مکمل کرنے کے بعد صوبائی صدر کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر میر چنگیز جمالی، سینٹرل کمیٹی کے رکن میر محمد صادق عمرانی، چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری، حاجی علی مدد جتک، سردار سربلند خان جوگیزئی، سردار محمد عمر گورگیج، شرجیل انعام میمن، بلال عمرانی سمیت دیگر بھی موجودتھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ہونے والے دھرنے کے شرکاء کی حکومت بات سنے اورمسئلے کا حل تلاش کرے طالبان اپنے آپ کوکسی تنظیم یا گروہ کی بجائے ریاست کے طور پر پیش کریں طالبان کی حکومت اگر دہشتگردوں کی حمایت کرتی ہے تو یہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک اور عوام کیلئے خطرناک ہوگی بلوچستان کے جیالے آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں پارٹی کارکنوں نے دن رات محنت کرکے تاریخی یوم تاسیس کو کامیاب بنایا بلوچستان میں حکومت بناکر عوام کی خدمت کرینگے قائد عوام ذولفقار بھٹو نے بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا تھا پیپلز پارٹی نے سی پیک، این ایف سی ایوارڈ، 18 ویں ترمیم، آغاز حقوق بلوچستان پیکج سمیت معاشی منصوبے دئیے دہشتگردی کے شکار علاقوں کو ترقی دینگے پاکستان کی کامیابی اس خطے کے ساتھ جڑی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ یہاں کے لوگوں کی تکلیف کم کریں کیونکہ ہمارا مقابلہ کسی سیاسی لیڈر سے نہیں بلکہ مہنگائی،بے روز گاری اور غربت سے ہے ہم نے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے ہمارا لیول پلیئنگ فلیڈ کا تاریخی مطالبہ ہے جو سب کے لئے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں دنیا کو اچھا پیغام دیتے ہوئے سرپرائز دیں گے۔ اور ہم عوامی مہم چلانا چاہتے ہیں وسوسے کا بہترین جواب عوام کے پاس ہے پیپلز پارٹی ٹکٹ میرٹ پر جاری کرے گی قربانی دینے والے کارکن جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں الیکشن کی جیت کے لیے بہترین اتحاد تشکیل دینگے۔نئی سیاسی قیادت وقت کا تقاضہ ہے۔نفرت، تقسیم اور گالم گلوچ سمیت انا پرستی کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں (ن)لیگ کو پہلی مرتبہ اپنے شہر اور گڑھ لاہور میں ٹماٹر اور انڈوں سے استقبال کا سامنا کرنا پڑا رہاہے۔ اس لئے میاں صاحب ووٹ کو عزت دلوائیں۔اور ووٹ کو بے عزت نہ کروائیں۔ صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کو روڈ میپ دیا ہم تین نسلوں سے جمہوری جہدوجہد کررہے ہیں اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقتہے سیاسی جماعتوں میں ایک گفتگو کا ماحول بنانا چاہیے (ن) لیگ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی افسوسناک باتیں نہ کرے اس سے اکائیوں کو نقصان ہوگا ابھی 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا اور اس کو ختم کرکے بلوچستان، سندھ، پنجاب اور کے پی کے کے وسائل اسلام آباد لے جانا چاہتے ہیں جس کی ہم ہر گز اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگوں کی غلظ فہمی ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے۔ سندھ کے عوام کا ہر فیصلہ قبول ہے رائیونڈ کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا موقع دیا جائے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں تا حال ایسا کچھ نہیں ہوسکا ان کو پہلے اپنے گھر کی فکر کرنی چاہئے وہ بلوچستان اور سندھ کی فکر کیوں کرتے ہیں ان کی فکر کرنا چھوڑ دیں ایک سوال ے جواب میں انہوں نے کہا کہ چمن میں احتجاج ہورہا ہے پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ لوگوں کی بات سنیں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے نگران حکومت کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں وہ صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں اگر صوبائی حکومتوں اور پی ڈی ایم حکومت نے جو فیصلے کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو ممکن بنائیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں دھرنے دینے والوں سے مذاکرات کئے سیاسی جماعتیں جمہوریت اور سیاسی دائرے میں رہ کرکریں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سانحہ 9مئی جیسے واقعات پر ٹروتھ کمیشن بناکر حالات کا تعین کرکے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاے۔ پارلیمانی دور میں مسائل ہوتے ہیں عمران خان نے سیاسی ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا اسی لئے انہوں نے اپنے دور اقتدار میں بجٹ کی منظوری دیگر بلوں کو پاس کروانے کے لئے آئی ایس آئی کو استعمال کیا اور سیاسی جماعتوں کو کسی خاطر میں نہیں لائے اور نہ ہی اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے فیصلے کئے ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام دیااور وسیلہ روزگار کا پروگرام بھی متعارف کروایا ہر صوبے میں تعلیمی ادارے قائم کئے یوتھ کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو سہولیات دینگے ہر ضلع میں نوجوانوں کے لئے مراکز اور سہولیات مہیا کرنا چاہتے ہیں نوجوانوں کی رہنمائی کریں گے یوتھ مراکز تمام سہولیات کی آگاہی اور تربیت دینگے۔افغانستان میں حالات بدل چکے ہیں اگر وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کو سفارتی طریقے سے تسلیم کرے تو وہ بات چیت کا عمل آگے بڑھائیں اگر افغان طالبان دہشتگردی کو سپورٹ کرتے ہیں تو یہ پاکستان افغانستان اور عوام سمیت دونوں کے لئے خطرناک ہوگا پیپلز پارٹی الیکشن میں ٹکٹ میرٹ پر دے گی.
Load/Hide Comments



