کوئٹہ (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے فلسطین میں جاری انسانیت سوز ظلم اور بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیام سے جمہوریت کا بیج بویا گیااور 56 واں یوم تا سیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یوم تاسیس 56 سالہ جدوجہد کی کہانی ہے۔ہماری جدوجہد جمہوریت کیلئے ہے جب تک لوگوں کے جائز حقوق نہیں ملتے تب تک جدوجہد جاری رہیگی۔اس لئے یوم تاسیس منانے کوئٹہ کا انتخابات کیا گیا۔صاف اور شفاف انتخابات کو ممکن بناکر ملک اور قوم کو معاشی اور دیگر بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر معافی مانگی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ایسے ناروا اقدامات کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔ پارٹی چیئرمین کا وژن ہے کہ پرانی سیاست کے طور طریقے گالم گلوچ کو ختم کرکے مثبت انداز میں نوجوانوں کو لیکر آگے بڑھنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند خان جوگیزئی، کے پی کے کے سیکرٹری امجد آفریدی، پارٹی کے رہنماء اعجاز دھامرا، سردار عمران بنگلزئی سمیت دیگر بی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہمارے دل کے قریب ہے اور پارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی غزہ میں کئے جانے والے مظالم، بچوں اور ہسپتالوں پر بمباری پر آواز بلند کی ہے،ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسکی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلے کے حل کے لئے بھی آواز بلند کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنا 56واں یوم تاسیس آج کوئٹہ میں منانے جارہی ہے یہ تاریخ میں پہلی بار بلوچستان میں منایا جانے والا یوم تاسیس ہے یہ دن جمہوریت کے لئے پیپلز پارٹی کی جدوجہد،تکالیف برداشت کرنے اور کارکنوں و قیادت کی قربانیوں کی تاریخ بیان کرتا ہے ہماری روز اول سے کوشش رہی ہے کہ ملک میں پائیدار جمہوریت کا حصول ممکن بنایا جائے عوام کو حقیقی انسانی حقوق ملیں اور ملک میں معاشی استحکام آئے۔جیئے بھٹو کے فلسفے سے لوگوں کی روح کانپتی ہے لوگ ہم سے مقابلے کی بات کرتیہیں وہ ہم سے نہیں بلکہ ہمارے ان کارکنوں سے مقابلہ کرلیں جنہوں نے کوڑے کھائے، مظالم برداشت کئے مگر اف تک نہ کی اور اپنے فلسفے پر قائم رہے آج بھی سابق صدر آصف علی زرداری نے واضح کہا ہے کہ وہ ملک سے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے بعد وہ اپنے کارکنوں سے آنکھیں کیسے ملائیں گے ہمیں ملک سے جانے کے مواقع ملے مگر اپنی دھرتی کو چھوڑ کر جانا اچھی مثال نہیں شہید بے نظیر بھٹو بھی جب مجبوراً جلا وطنی میں گئیں اس کے باوجود وہ پل پل عوام، پارٹی اور سیاسی حالات سے رابطے میں اور باخبر رہیں۔رات کے اندھیرے اور معاہدے کر کے لوگ بوریا بستر اٹھا کر گئے ہم آج بھی اس مفاہمتی عمل پر قائم ہیں جسکی بنیاد شہید بے نظیر بھٹو نے ڈالی تھی ہم چاہتے ہیں کہ سیاست ہو اور جمہوریت مستحکم ہو ہماری جنگ غربت، بے روزگاری، انتہائی پسندی، معاشی بد حالی سے ہے تقسیم اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص اور جماعت ترقی کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں ایسے پروجیکٹ کئے گئے جن کا ملک کو نقصان ہوا ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے عوام کے زخموں کو بھرنے کے لئے ان سے معافی مانگی، اورآغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کو 9فیصد سے زائد حصہ دیا،18ویں ترمیم کر کے صوبوں کو مضبوط کیا،گوادر پورٹ کو فعال اور سی پیک کی بنیاد رکھی،سیندک میں بلوچستان کو 50فیصد حصہ دینے کی بات کی، صوبے میں پیپلز پارٹی نے ہی میڈیکل کالج، یونیورسٹیاں بنائیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ روز قبل بلوچستان میں الیکٹیبلز کی شمولیت کا ناٹک لگا کر سیاست کی گئی ہم روایات کی قدر کرنے والے لوگ ہیں ہم پگڑی، لباس کی قدر کرتے ہیں لیکن ہم نے کچھ ویڈیوز دیکھیں جن میں پگڑی کی توہین کی گئی اس موقع پر نواز شریف کو ظرف کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی ہمیں الیکٹیبلز سے ملنے کی شکایت نہیں ہے مگر انکا رویہ تعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے پاکستان کو اس سوچ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے.
Load/Hide Comments



