سینیٹ خزانہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ خزانہ کمیٹی نے شمسی پینل کی آڑ میں 70ارب روپے سے زائد منی لانڈرنگ کے معاملے پر اسٹیٹ بنک حکام کی جانب سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ کمیٹی کو چیرمین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ بڑے بڑے کاروبار اور جائیدادیں خریدنے والے ٹیکس نادہندگان کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا ہے اور ان کو نوٹسز بھجوائے جارہے ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں امنعقد ہوا اجلاس ے دوران شمسی توانائی ہینلز کی آڑ میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے معاملے پر چیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم نے معاملے پر اپنی رپورٹ بھیجی ہے چیرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ اسٹیٹ بنک نے اس معاملے میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب بنکس ڈالرز کی اشد ضرورت کے متعلق اسٹیٹ بنک کو آگاہ کرتے تھے ایسے وقت میں یہ کیسے ہوا ہے سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ کیا یہ حکومتی پالیسی کے مطابق ہوا ہے یا منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور اسٹیٹ بنک نے ان بنکوں کے خلاف کیا اقدامات اٹھائے ہیں کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ادویات کے لیے ڈالر دستیاب نہیں تھے اور بندرگاہوں پر اشیائے خوردونوش گھل سڑ گئے تھے اس وقت یہ کام ہوا تھا چیرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر کی رپورٹ میں بھی کچھ واضح نہیں ہے اس موقع پر ایف بی آر کے شیراز احمد نے بتایا 63 درمد کنندگان نے 70ارب روپے باہر بھجوانے گئے انہوں نے کہا کہ رقم باہر بھجوانے کے ساتھ ایف بی آر کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 8درآمد کنندگان نے 40ارب روپے کی اوور اینوائسنگ کی ہے جن پر ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ دیگر افراد کو نوٹسز دئیے جارہے ہیں اور بہت سے معاملات اب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں انہوں نے کہا کہ سامان چائنہ سے آرہا ہے اور رقم دبئی جارہی تھی جس کے بارے میں دبئی حکام کے ساتھ بات چیت جاری یے انہوں نے کہا کہ ایک مقدمے کا مرکزی ملزم رب نواز اور اس کی بیوی کے خلاف کارروائیکی جارہی ہے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے اس معاملے میں اقدامات اٹھانے چاہیے کیونکہ جن لوگوں نے کروڑوں ڈالر باہر بھجوانے ہیں ان کے خلاف سخث اقدامات ہونے چاہیے تاکہ یہ مثال بن سک سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ اربوں ڈالر کے گھپلے ہوئے ہیں حکومت اور وزارت خزانہ کی جانب سے سخت اقدامات کے باوجود اتنی بڑی رقم کا باہر جانا ایک بڑا جرم ہے اس حوالے سے اسٹیٹ بنک نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں کمیٹی نے معاملے پر اسٹیٹ بنک حکام کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی ہے ملک میں ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس وقت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان 11.4ملین جبکہ سیلز ٹیکس میں 3لاکھ 55 ہزار ٹیکس دہندگان ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے 69فیصد مقامی جبکہ 40فیصد درآمد پر ٹیکس اتا ہے اور ڈائیکٹ ٹیسز 46 فیصد ہیں سینیٹر ذیشان خانزادہ نے استفسار کیا کہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان میں سرکاری اور نجی شعبے سے ہیں چیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اس وقت 53لاکھ افراد فائلر ہیں انہوں نے کہاکہ ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور ان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے انہوں نے کہاکہ 25لاکھ افراد جو رجسٹرد نہیں ہیں وہ بڑے پیمانے پر بزنس کررہے ہیں ان میں 10لاکھ کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا یے اور نادرہ سے بھی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے اب وہ ہمارے ریڈار پر آگئے ہیں انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھارہے ہیں اجلاس کے دوران خاتون پٹیشنرصائمہ عمر نے بتایا کہ 15لاکھ روپے قرضہ لیا اور اب27لاکھ روپے بن گیا ہے جبکہ 15لاکھ روپے قسطوں میں ادا کر چکی ہوں جس پرایچ بی ایف سی حکام نے بتایا کہ مذکورہ خاتون نے قسطیں ادا نہیں کی ہیں اور عدالت میں کیس بھی ہار چکی ہیں وہاں پر انہوں نے رقم ادا کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ہزاروں کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں اس موق پر چیرمین کمیٹی نے کہا کہ خاتون کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رعایت کریں۔