اسرائیل غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کا ذمہ دار ہے، جلیل عباس جیلانی

اسلام آباد(آن لائن) نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کا ذمہ دار ہے پاکستان نے فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے عالمی سطح پر سرکرم کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہاکہ غزہ میں ہسپتال کا قیام اس وقت مشکل ہے ہم کوشش کریں گے فلسطینی عوام کو امداد پہنچا سکیں۔جمعہ کے روز ایوان بالا میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ بدقسمتیسے عالم عرب میں کوئی بھی جمہوری حکومت نہیں ہے اور وہاں پر کوئی جلسہ یا جلوس نہیں دیکھا صرف مساجد میں قنوت نازلہ کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ مصر میں پاکستان کے سفیر کی کاوشیں بھی قابل قدر ہیں اور مصر کے دورے کے موقع پر رفا کراسنگ تک جا نے کی اجازت نہ مل سکی انہوں نے کہاکہ پاکستان ریاست،حکومت اور عوام کی جانب سے سامان ریڈکراس کے حوالے کیااور افسوس ہوا کہ یہ سامان پہلے اسرائیل چیکنگ کیلئے جاتا ہے اور اسرائیل کی اجازت کے بغیر اپنے فلسطینی بھائیوں کو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت تقریبا7 ہزار افراد ملبے کے نیچے ہیں 6 ہزار بچے 4ہزار خواتین 5 ہزار مرد،205میڈیکل سٹاف اور64جرنلسٹ شہید ہوچکے ہیں جبکہ وہاں جو معلومات ملی ہیں وہ زیادہ خوفناک ہیں کہ 50ہزار افراد شہید اور 1لاکھ سے زائد زخمی ہیں انہوں نے کہاکہ یہ ہولوکاسٹ اسرائیل کے ہاتھوں جاری ہے اس وقت حماس گوریلہ جنگ لڑ رہی ہے انہوں نے کہاکہ ایک جنگ غزہ میں اور ایک جنگ پوری دنیا میں ہے جو کہ فلسطینی جیت رہے ہیں انہوں نے کہاکہ کھیلوں کے میدانوں اور سفارتی تقریبات میں بھی جنگ جاری ہے میں پاکستان کی شیما کرمانی کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک میں 24گھنٹے مظاہرے ہورہے ہیں سوشل میڈیا میں فلسطین کے حق میں اربوں لوگ مہم چلا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کے حق میں مشرق کی بجائے مغرب سے آواز بلند ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ چھوٹے مغربی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کئے ہیں مگر آو آئی سی بھی کچھ نہ کر سکی ہے انہوں نے کہاکہ حالیہ معاہدہ بھی حماس نے کیا ہے جو کام او اائی سی نہ کرسی وہ حماس نے کیا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کیوں غائب اور خاموش ہے پاکستان بین الاقوامی عدالتوں میں کیوں نہیں جارہا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سفارت کاری سمجھ نہیں آرہی ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع ہونی چاہیے پاکستان زخمیوں کو علاج فراہم کرنے کی بات تو کر سکتا تھا مگر کچھ نہیں کر رہے ہیں حکومت کوشش تو کرے ا۔نہوں نے کہاکہ پاکستان میڈیکل سٹاف بھجوانے کے لئے مصر اور اردن کے ساتھ بات کرے انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کے این جی اوز سامنا بھجوانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو ایک بار کی اجازت دیدیں کہ وہ فلسطینوں کی فلاح و بہبود کیلئے ملک سے ڈالر باہر لے جاسکیں انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا اسرائیل کے خلاف ہے اس وقت ایک اور دو ریاستوں کے تصور کو چھوڑ دینا چاہیے اور صرف فلسطیننوں کی مدد اور اسرائیلیوں کی دہشت گردی کے خلاف کام کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ عوام پریشان ہے کہ ہماری حکومت کیا اقدامات اٹھا رہی ہے اس موقع پر نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہاکہ غزہ کی صورتحال بہت گھمبیر ہے اور وہاں پر جو تباہی ہوئی ہے اس وقت 15 ہزار سے زیادہ شہادتیں اور 40 ہزار زخمی ہیں جبکہ ساری عمارتیں تباہ ہوئی اور 37کے قریب طبی ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور اقوام متحدہ کے بے شمار ورکرز جاں بحق ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ جنگی جرائم ہے جو کہ اسرائیل کر رہا ہے اور ہم بار بار کہتے ہیں کہ کہ اسرائیل کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دینا چاہیے انہوں نے کہاکہ وہاں پر صورتحال پر ساری دنیا کی توجہ ہونی چاہیے فلسطین کے صدر نے بتایا کہ لاکھوں اور ہزاروں کی تعداد میں بچے یتیم ہوچکے ہیں خاندانوں کے خاندان تباہ ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت 50 اسرائیلی قیدیوں جبکہ حماس 150حماس کی قیدیوں کو رہا کرے گا انہوں نے کہ اس تباہی کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال کیا ہوگی میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے جس طرح کا دباؤ اسرائیل اور عالمی برادری پر ڈالا ہے اس کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے انہوں نے کہاکہ قطر نے بھی ایک کردار ادا کیا ہے کہ جنگ بندی ہو اور مسئلے کا کوئی مستقل حل ہوانہوں نے کہاکہ جس طریقے سے جلوس نکلے ہیں فلسطین کے حق میں اس سے فلسطین کا مسئلہ مذید اجاگر ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اسرائیل کو جنگی جرائم اور نسل کشی کا ذمہ دار قرار دینا چاہیے اور اسرائیل کا اس وقت تک کوئی حل نہیں ہوسکتا جب تک اسرائیل ایک ازاد ریاست کے طور پر سامنے نہ آئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گذشتہ ڈیڈ ماہ سے بہت سرگرم کردار ادا کیا ہے او آئی سی میں بھی پاکستان نے زیادہ کردار ادا کیا ہے اسی طرح اقوام متحدہ میں اردن کی قرارداد کو منظور کرانے کیلئے پاکستان کے کردار کو عالمی برادری نے سراہا ہے انہوں نے کہاکہ ایوان کو بتایا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے اردن اور مصر کے ساتھ رابطے ہیں تاہم اس حوالے سے مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے اسرائیل کی اجازت درکار ہے وہ ایک ایک زخمی کی بھی سکروٹنی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت غزہ کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں پر کوئی بھی ملک ہسپتال نہیں بنا سکتا ہے وہاں پر انڈونیشیا کا ہسپتال بھی تباہ کردیا گیاہے.