پاکستان کو 2030 تک پائیدار ترقی کیلئے 348 بلین ڈالر کی ضرورت ہے، سینیٹر شیری رحمان

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2030 تک پائیدار ترقی کیلئے 348 بلین ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ ہمارہ جی ڈی پی گیپ 16.1 فیصد ہے،ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے لیے ایک ٹائم بم ہے، ماحولیاتی تبدیلی ہمارے خطرات کو دوگنا کر دیتی ہے،2025 تک ہم خشک سالی کا شکار ہو جائے گے لیکن اس حوالے سے کہیں پر بھی بیچینی نظر نہیں آتی، شیری رحمان نے اسلام میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر جدت لا سکتا ہے اور ترقی کر سکتا ہے،پبلک سیکٹر کئی وجوہات کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا،سندھ کے بہت سے شعبوں میں پبلک پرائیوٹ ماڈل کامیابی سے کام کہا ہے، کمپنیوں اور نئے کاروباروں کو پائیداری ترقی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، نڈسٹریز کو سسٹینبلٹی کے چھوٹے منصوبوں سے آگے بڑھنا ہوگا،پراؤیٹ سیکٹر گرین جابز پیدا کرے اور ذمہ دار سرمایہ کاری کا ثبوت دے،جدید معیشت کا تقاضہ ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی جائے،پبلک سیکٹر کو کوآرڈینیشن کے خلا کو پْر کرنا چاہیے،پائیدار سرمایہ کاری کے لیے مقامی فورم تشکیل دیا جائے، شیری رحمان نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پائیدار اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کرے گے.