کوئٹہ(آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ چار سو چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے تاکہ عوام کو پانی ملے، شہبازشریف کے بنائے دانش سکولوں میں بچوں کو داخلہ دیا، بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی بہترین سہولیات دینا چاہتے ہیں،وہ کوئٹہ میں پارٹی اجلاس سے خطاب کررہے تھے،نواز شریف نے کہا کہ سوالاکھ ایکڑ سیراب کرنے والی کچھی کنال 50 ارب میں ہم نے بنائی، باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طورپر کچھ نہیں کیا، صرف مسلم لیگ (ن) نے کوئٹہ، گوادر، ڑوب اور لورالائی کے بارے میں سوچا، گوادر کو سندھ کے ساتھ ملایا، کوسٹل ہائی وے بنائی، کوئٹہ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ذریعے اسلام آباد سے ملا رہے ہیں،2018 میں منصوبہ مکمل ہونا تھا، یہ منصوبہ کیوں مکمل نہ ہوا،یہ نقصان عوام کا ہوا، بلوچستان کا ہوا،پاکستان کو ہوا، ڈیڑھ دن میں گوادر سے کوئٹہ لوگ پہنچتے تھے، ہم نے اْن کی یہ تکلیف ختم کی، گوادر کوئٹہ شاہراہ کی تعمیر سے اب آپ ناشتہ گوادر اور دوپہر کا کھانا کوئٹہ میں کھا سکتے ہیں،کچھ فرق تو ہے باتیں کرنے اور عمل کرنے والوں میں،کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کو پوچھنا چاہیے، کون کس نے کیا کیا؟ بچوں کو بتانا چاہیے،ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم، صحت تک محدود نہیں ہوگا، پاکستان کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ گوادر میں مکمل ہونے والا ہے،ہم نے گوادر کا نام اْس وقت لیا جب 1990 میں میں وزیراعظم بنا تھا،عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، سولر پینلز کی سکیم لائیں گے، گھریلو، کمرشل اور زرعی صارفین کو سولر پینلز سے مہنگی بجلی سے نجات دلائیں گے،بغض اور حسد، گندی زبان اور نفرت نے معاشرے کو گندا کیا،نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں کیا نیا ہوا؟ہمارے شروع کئے منصوبے بھی رْکے رہے، اپنے معاشرے میں تہذیب، شرافت اور شائستگی واحترام واپس لائیں گے، ہم نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم کی، بیس بیس سال منصوبے مکمل نہیں ہوتے تھے، ہم نے مہینوں میں منصوبے مکمل کئے، ہماری حکومت ختم نہ ہوتی تو غربت، پسماندگی، معاشی بدحالی ختم ہوچکی ہوتی،ہم تو ایسا پاکستان بنارہے تھے جہاں مہنگائی نہ ہو، عوام کی زندگی مشکل نہ ہو،2017 میں عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلا دی تھی،کراچی، بلوچستان، خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک سے دہشت گردی ختم کردی، آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ کون کیا کرکے گیا ہے۔
Load/Hide Comments



