لاہور (آن لائن) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات 75 سالہ تاریخ کے مشکلترین انتخابات ہوں گے، تمام سیاسی پارٹیوں کو مل کر صرف ملکی معیشت پر کام کرنا چاہئے، ہمیں مل کر ڈالر اور پٹرول کی قیمت کو کنٹرول کرنا ہے، مجھ پر میرے خاندان پر جھوٹے کیسز بنائے گئے لیکن اللہ تعالی نے سرخرو کیا، اسٹیبلشمنٹ پوری دنیا میں اہم کردار ادا کرتی ہے، سیاسی جماعتوں میں برداشت کا مادہ ہونا چاہئے، عوام کے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ہمیں صرف اور صرف ملک کا سوچنا ہے، سولہ مہینوں کی حکومت میں شہباز شریف نے اپنی من مانی نہیں کی ورنہ دھڑن تختہ ہوجاتا، اسٹیبلشمنٹ اگر کسی گورنمنٹ کو سپورٹ کرے تو اچھی بات ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں تو اچھی بات ہے، ملک میں جب مشکلات آتی ہیں تو سب سے زیادہ قیمت عوام کو دینا پڑتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے تحاشا نعمتوں سے نوازا ہے، زراعت کے ذریعے ہم اپنی بہت سی مشکلات ختم کرسکتے ہیں کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، نیب کے طریقہ کار کو میں نہیں مانتا، جب میں وزیراعلیٰ پنجاب بنا تو ایسے لوگوں کو کرپشن کرتے دیکھا جن کو ٹھیک سمجھتا تھا، جماعتوں میں سیاسی کشمکش رہتی ہے، ماضی میں ایسا کوئی بھی کام جس سے حکومتی تسلسل میں رکاوٹیں پیدا ہوں ایسا کام نہیں کرنا چاہئے، پاکستان کے پاس بھی یہ آخری موقع ہے سب سے اہم یہ ہے کہ پاکستان کو بچا لیں، جو لوگ چور ڈاکو کہتے تھکتے نہیں تھے وہ آج کہاں ہیں مجھے اس پر بالکل بھی خوشی نہیں ہے، عدم برداشت کے ماحول کو ختم کرنا پڑے گا ایک دوسرے کو برداشت کرنا پڑے گا، عدم برداشت کی سیاست کو ختم کرتے ہوئے کئی سال لگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی قانون کسی کے کردار کو کم یا زیادہ نہیں کرسکتا، امریکہ، برطانیہ، ترقی پذیر ممالک ہرجگہ اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، کوئی بھی کردار اہم نہیں رہتا اہم ہوتی ہے عوام کے لئے فارمنس، ساؤتھ پنجاب کے میں نے تین دورے کیئے ہیں وہاں کی ٹکٹوں پر بہترین انداز میں کام کررہے ہیں بڑی کامیابی حاصل کریں گے، بہت مشکل انتخابات ہونے جا رہے ہیں، سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ یوتھ کو ساتھ ملایا جائے.
Load/Hide Comments



