غزہ میں امن کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کردار ادا کرنا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل پر موقف واضح ہے ہمارے اسرائیل کے ساتھ نہ کوئی تعلقات ہیں نہ ہی اقتصادی روابط، غزہ میں امن کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم کی مذمت کرتا ہے۔پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان نے انتہائی نازک صورتحال، سنجیدہ تحفظات پر بھی افغانستان سے رابطے بحال رکھے ہماری خارجہ پالیسی ہمارے سیکیورٹی تحفظات کی عکاس ہے۔ افعان عوام کے لئے ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں افغان عوام کی مشکلات، مستحکم، پرامن اور خوشحال افعانستان کے لئے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔ میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو غزہ میں امن کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہیے، بطور قابض طاقت اسرائیل کو چوتھے جینوا کنوینشن کا احترام کرنا چاہیے، ہم نے امریکہ کا غزہ میں چند گھنٹوں کی جنگ بندی کا بیان دیکھا ہے، ملٹری آپریشن میں ٹیکٹیکل وقفے انسانی امداد کے غزہ رسائی میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے، پاکستان غزہ میں مکمل جنگ بندی کا حامی ہے۔پاکستان غزہ پر جوہری حملے یا جوہری ہولوکاسٹ کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے،پاکستان کا اسرائیل پر موقف واضح ہے ہمارے اسرائیل کے ساتھ نہ کوئی تعلقات ہیں نہ ہی اقتصادی روابط۔ انہوں نے کہا کہ غزہ محاصرے میں ہیاور پاکستان کی غزہ تک رسائی نہیں ہے ہم فی الوقت غزہ میں طبی ٹیمیں بھجوانے پر غور نہیں کر رہے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ برقرار رکھنے کے کسی بھی بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔اسرائیل کے مددگاروں سے کہتے ہیں، وہ اسرائیل کو معصوم فلسطینیوں کے قتل عام اور دہشت زدہ کرنے سے روکیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم کے دورہ ازبکستان سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعظم نے ازبکستان کا دو روزہ دورہ کیا، نگران وزیراعظم کی جانب سے دو روز قبل پریس کانفرنس میں اس حوالے سے پالیسی بیان دیا گیا۔ممتاززہرابلوچ نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے تاشقند میں 16ویں ای سی او سمٹ میں شرکت کی، انہوں نے او آئی سی کے وڑن پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا، اجلاس میں خطے کی ترقی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اتفاق کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیا، انہوں نے سمٹ کی سائیڈ لائن پر ازبکستان اور آذربائیجان کے صدور کے ساتھ ملاقاتیں کیں، نگران وزیراعظم آج او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایاکہ نگران وزیراعظم کا جمعہ کو پاکستان کی تارکین وطن پر پالیسی پر بیان بہت واضح تھا، نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں ہمیں افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر تحفظات ہیں پاکستان ہمسایہ ملک افغانستان سے مثبت تعلقات کا خواہاں ہے پاکستان نے انتہائی نازک صورتحال، سنجیدہ تحفظات پر بھی افغانستان سے رابطے بحال رکھے ہماری خارجہ پالیسی ہمارے سیکیورٹی تحفظات کی عکاس ہے ہم نے افغان حکومت سے بارہا دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کا کہاہم افغانستان میں امن و استحام کو اپنی ہمسائیگی میں ضروری سمجھتے ہیں افعان عوام کے لئے ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں افغان عوام کی مشکلات، مستحکم، پرامن اور خوشحال افعانستان کے لئے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے پاکستان اپنے امیگریشن قوانین پر عمل کرتے رہیں گے افغانستان واپس جانے والے واپس آنا چاہیں تو ویزا، قانونی ضوابط پورے کر کے آ سکیں گے۔وادی نیلم سے بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں مغوی، ہلاک شدہ 5 افراد کی نعشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے پاکستان ایسے افغان شہریوں کو بیدخل نہیں کر رہا جو کہ دستاویزات رکھتے ہیں ایسے افغان شہریوں کو جو کہ نادرا کارڈ رکھتے ہیں واپس نہیں بھیجا جا رہاہم نے اسپین میں 14 پاکستانیوں کے تحریک لبیک سے متاثر ہو کر دہشتگردی کے منصوبے پر گرفتاری کی رپورٹس دیکھی ہیں ان پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد مزید کچھ کہہ سکتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں آئین و قوانین، مذہب پر عملدرآمد کی آزادی فراہم کرتے ہیں، پاکستانی قوانین اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے مزہد کہا کہ اس ہفتے کے شروع میں جموں و کشمیر میں ڈوگرا راج، آر ایس ایس کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام ہوا، ہم اس واقعہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، بھارت کشمیریوں کے نا قابل تنسیخ حق خود ارادیت کا احترام کرے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔