بیانات اور قراردادوں کی بجائے غزہ کو بچانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں: سراج الحق

لاہور(آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ نازک ترین صورتحال میں اسلامی دنیا کے حکمران متحد ہوکر مظلوم فلسطینیوں کی مدد نہیں کریں گے تو امت اور تاریخ ان کا احتساب کرے گی۔ حکومتوں کی خاموشی مسلمان عوام کے غیض وغضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے، او آئی سی ممالک کا سربراہی اجلاس بلایا جائے، بیانات اور قررادادوں کی بجائے غزہ کو بچانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کیا۔ امیر جماعت ایران، ترکی اور قطر کے دوروں کے پہلے مرحلے میں تہران میں ہیں۔ دورہ کے دوران وہ تینوں ممالک کے اہم سیاسی ومذہبی رہنماؤں اور اسلامی تحریکوں کے قائدین سے ملاقاتیں اور فلسطین میں وقوع پذیر انسانی المیہ کو روکنے کے لیے مشاورت اور تبادلہ کریں خیال کریں گے۔ اس دوران وہ 9اور 10نومبر کو اسلامی تحریکوں کی قیادت کی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ امیر جماعت حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔ ان کے دورے کا مقصد غزہ میں وقوع پذیر انسانی المیہ کو روکنے کے لیے تینوں ممالک کے حکام کو اہل فلسطین کو اسرائیلی مظالم سے بچانے کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔ ڈائریکٹر شعبہ امورخارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی اور نائب امیر کے پی صابر اعوان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ مجمع التقریب آیۃ اللہ شہریاری اور ادارہ دفاع از ملت آیت اللہ رحیمیان سے ملاقاتوں کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا ایرانی حکومت سے مسلمان عوام زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ امام خمینیؒ اورسید مودودیؒنے اسلامی نظام کے قیام اور امت کو فرقہ واریت سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد کی۔ فلسطین کی آزادی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پاکستان میں فلسطین مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے دن رات محنت کررہی ہے۔ رائے عامہ ہموار کرنے اور حکمرانوں کو جگانے کے لیے جماعت اسلامی نے کراچی اور اسلام آباد میں غزہ ملین مارچ منعقد کیے ہیں۔ لاہور میں 19نومبر کو ملین مارچ ہو گا۔ قومی فلسطین کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مسئلہ فلسطین کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ القدس کمیٹی نے مسلمان سفیروں سے ملاقاتوں میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا ہے۔ ہم ایران، قطر اور ترکی کے دورے میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر زور دے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسلامی تحریکوں کے قائدین بھی استنبول میں جمع ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 8فروری کو پاکستان میں انتخابات کا اعلان بھی ہوا ہے لیکن ہم اہل غزہ میں ظلم کو روکنے کے لیے دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا امت مسلمہ تاریخ کے نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اہل غزہ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ مسلمان حکمران اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں.