اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ شفاف انتخابات اور لیول پلینگ فیلڈ انتخابات کیلئے ضروری ہیں،پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران بعض اندرونی اور بیرونی حلقوں کی خواہش تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے مگر ہم نے اپنی سیاست کو قربان کرکے ملک کو بچایا ہے۔انہوں نے کہاکہ شفاف انتخابات اس ملک کی اولین ضرورت ہے تاہم انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچانے کی بجائے کھلے سے دل سے نتائج تسلیم کرنے چاہیے۔جمعہ کے روز نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے بہت اہم باتیں ایوان کے سامنے رکھی ہیں یہ ایوان چاروں صوبوں پر مشتمل ہے انہوں نے کہاکہ حقائق کا جاننا ضروری ہے آئین کہتا ہے کہ 90روز میں انتخابات کرنا ضروری ہے تاہم ہمیں دیگر باتوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کا فیصلہ چاروں صوبوں کی مشاورت سے ہوا تھا اور مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس حلقہ بندیوں کے علاوہ کوئی دوسری چوائس نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے 54ارب روپے مانگے تھے جو ہم نے مشاورت کے بعد 46ارب کردئیے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے 16ارب روپے مانگے تھے جبکہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور قومی اسمبلی کی جانب سے انتخابات نہ کرانے کے حوالے سے قرارداد بھی منظور کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کیلئے گرانٹ منظور ہوچکی ہے ، اگر ہماری معیشت پیچھے چلی گئی ہے اور ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جائے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہوگا انہوں نے کہاکہ ملک کے اندر اور باہر کی قوتیں پاکستان کو ڈیفالٹ کرانے کی خواہش رکھتی تھی جبکہ ہمارے سامنے ملک کو بچانے کا مشن تھا جس میں ہم کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک وزیر نے حکومت ختم ہونے کے وقت کہا تھا کہ ہم نے بارودی سرنگیں بچھائی ہیں اگر یہ درست ہے تو یہ ملک کی سیاست کیلئے نہایت خطرناک بات ہوگی۔انہوں نے کہاکہ شفاف انتخابات اور لیول پلینگ فیلڈ انتخابات کیلئے ضروری ہیں ہمیں بھی سابقہ حکومتوں کی دور میں ہمیں بھی لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے اور تمام بین الاقوامی مبصرین کو انتخابات کا مشاہدہ کرنے کیلئے آنا چاہیے انہوں نے کہاکہ محض ذاتی مفادات پر اختلافات نہیں کرنے چاہیے اور اگر شفاف انتخابات ہوئے تو اسے کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔
Load/Hide Comments



