اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے 90روزمیں عام انتخابات کے حوالے سے ہونے والی سماعت پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت نے الیکشن کمیشن کوصدرمملکت سے مشاورت کاعمل مکمل کرکے آج جمعہ کوسپریم کورٹ میں جواب پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور آئندہسماعت میں انتخابات کی تاریخ کاحتمی اعلان سپریم کورٹ سے کیاجائیگا۔ چیف جسٹس قاضٰ فائزعیسیٰ نے کہاہے کہ عدالت صرف اس مسئلے کا حل چاہتی ہے تکنیکی پہلوؤں میں الجھنا نہیں چاہتے،الیکشن کمیشن نے کہا حلقہ بندیوں کا عمل 30 نومبر کو مکمل ہو گا،الیکشن کمیشن کے مطابق اس کے بعد الیکشن شیڈول جاری ہو سکتا ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق تمام مشق 29 جنوری بروز پیر کو مکمل ہو گی،الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں زیادہ عوامی شرکت کے لیے اتوار کے روز کی تجویز دی، الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول دیا گیا،انتیس جنوری تک تمام مراحل مکمل ہوجائیں گے، عوام کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کیلئے اتوار کو انتخابات کے انعقاد کا کہا گیا ہے،،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کوسماعت کی اس دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات بارے شیڈول سے آگاہ کیاگیاتاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کوہدایت کی ہے کہ وہ صدرمملکت سے مشاورت کاعمل مکمل کرے اکورٹ کوجواب دے۔چیف جسٹس نے ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل مشاورتی عمل میں آن بورڈ رہیں، اٹارنی جنرل الیکشن کمیشن اور صدر پاکستان کی چائے پر ملاقات کرانے کا اہتمام کرے، فون اٹھائیں اور صدر کے ملٹری سیکرٹری کو ملیں،جو تاریخ دی جاے اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے، دستاویز پر سب کے دستخط ہوں گے تا کہ کوئی مکر نہ سکے، حتمی تاریخ کے بعد اس میں توسیع کی درخواست نہیں سنی جائے گی،فیصلے پر ہر صورت عملدرآمد کرائیں گے،، گزشتہ سماعت اور آج کی سماعت کے دونوں حکمنامے فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم ابھی حکمنامہ پر دستخط کر کے کاپی آپ کو دے رہے ہیں۔اس دوران فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ پاکستان کے عوام کے لیے آج بہت بڑی کامیابی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ تلخیاں اپنی جگہ پر مگر تمام سیاسی جماعتیں اپنا منشور لے کر عوام میں جائیں،عوام کو جس کا مشور پسند آئے گا وہ اسے ووٹ دے دیں گے۔الیکشن کمیشن صدر مملکت سے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق مشاورت کرے، ہم انتخابات کی تاریخ نہیں بدلنے دیں گے۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ مخصوص کی جائے جو پتھر پر لکیر ہو۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی تاریخ پتھر پر لیکر ہی ہوگی،ہم ہر صورت فیصلے پر عملدرآمد کرائیں گے،کاغذ کے ٹکڑے پر سب کے دستخط ہونے چاہئیں تا کہ کل سے کوئی مکر نہ جائے، پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صدر مملکت سے الیکشن کی تاریخ سے متعلق مشاورت پر کوئی اعتراض نہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ دیکھیں ہم نے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو اکٹھا کر دیا، کل کو یہ سرخی نہ لگی ہو کہ ان دونوں پارٹیوں میں اتحاد ہو گیا۔قبل ازیں سپریم کورٹ میں ملک میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 11 فروری کو الیکشن کرادیں گے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا کہ حلقہ بندیوں کا عمل 29 جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد 11 فروری کو انتخابات ہوں گے۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی ٰ نے صدرمملکت کے آئینی کردارپرکہاہے کہ انھوں نے آخری دنوں میں جاکر انتخابات کی تاریخ دی ہے ہم اس پر جوڈیشل نوٹس بھی لے سکتے ہیں۔
Load/Hide Comments



