غزہ،لاپاز، ریاض (آن لائن)غزہ پر زمینی حملے میں اسرائیل کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، اسرائیلی فوج نے 11 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی جبکہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہغزہ کے پناہ گزینوں کے کیمپ جبالیا پر اسرائیلی حملے میں 7 یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں، ہمارا دفاعی آپریشن جاری ہے اور ابھی تو صرف شروعات ہیں، ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے، غزہ کو دشمن کا قبرستان بنا دیں گے، دوسری جانب زخمی فلسطینیوں کے مصر میں علاج اور دہری شہریت رکھنے والوں کے غزہ سے انخلا کے لیے رفح کراسنگ بارڈر کو محدود پیمانے پر کھول دیا گیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے شمالی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کو اینٹی ٹینک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔7 اکتوبر سے اب تک حماس کی جوابی کارروائی میں 13 سو اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ قبول کیا ہے۔ ادھر حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے بدھ کے روز جاری بیا ن میں کہا کہ جبالیا پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں 7 یرغمالی مارے گئے جن میں 3 غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے اب تک 239 قیدیوں میں سے 4 یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہدا کی مجموعی تعداد 8 ہزار 500 سے زیادہ ہوگئی ہے اور 23 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہید افراد میں 3542 بچے اور 2187 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ 2 ہزار افراد اب بھی تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں 1100 بچے بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ فلسطین کی ٹیلی کمیونیکیشنز ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام بند ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک ویڈیو پیغام میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے مسجد اقصٰی کے دفاع کا اعادہ کرتے ہوئے مسلم امہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس جنگ میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ان کے جنگجو اب تک کم از کم 22 اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کرچکے ہیں۔ ہمارے جنگجوؤں نے دشمن کے ٹینکوں اور گاڑیوں کو مختلف اینٹی آرمر ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ جھڑپوں کے دوران بڑی تعداد میں دشمن کے فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ابوعبیدہ نے کہا کہ دشمن کے اہداف پر حملہ کرنے کے لیے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل گھٹنے ٹیکے گا اور یہ نیتن یاہو کے خاتمے کا باعث بنے گی۔انہوں نے اسرائیل کی جانب سے اپنی ایک خاتون فوجی کو حماس کی قید سے چھڑانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تم جنگ کے ایک ماہ بعد ایک قیدی کو رہا کروانے کا جھوٹا دعویٰ کرکے جشن منا رہے ہو، اس طرح تو تمہیں اپنے تمام قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے 20 سال درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں 200 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے کچھ کو رہا کر ینگے۔حماس ترجمان نے اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اپنے کمانڈر کی موجودگی کی بھی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا۔ واضح رہے کہ منگل کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ دوسری جانب قطر کی ثالثی میں مصر، حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے تحت زخمی فلسطینیوں کے مصر میں علاج اور دہری شہریت رکھنے والوں کے غزہ سے انخلا کے لیے رفح کراسنگ بارڈر کو محدود پیمانے پر کھول دیا گیا۔ غزہ سے انخلا کے واحد راستے رفح کراسنگ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے بند کردیا گیا تھا جس کے باعث دنیا بھر سے آنے والی امداد اور غزہ سے انخلا کے خواہش مند شہری سرحد پر پھنس گئے تھے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور مغربی ممالک نے بھی رفح کراسنگ کو کھولنے پر زور دیا تھا تاکہ امدادی سامان ان فلسطینیوں تک پہنچ سکے جن کی اسے شد ضرورت ہے اور بے گھر ہونے والے فلسطینی مصر میں پناہ حاصل کرسکیں۔ مسلم ممالک کی جانب سے بھی بارہا رفح کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا لیکن تین ہفتے گزر جانے کے باوجود ایسا نہ ہوسکا تھا۔ قطر نے ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے مصر اور اسرائیل کو رفح کراسنگ کھولنے کا معاہدہ طے کرادیا۔ان 500 فلسطینیوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو جاپان، آسٹریلیا، بلغاریہ، انڈونیشیام اردن، اٹلی، یونانی اور چیک جمہوریہ کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں جن غیر ملکیوں کو رفح کراسنگ پر کرنے کی اجازت دی گئی ہے میں مختلف این جی اوز کے لیے کام کرنے والے امریکا،جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، جاپان، آسٹریلیا، فلپائن اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر 16 ممالک کے شہری شامل ہیں.
Load/Hide Comments



