اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ آف پاکستان نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی،اسرائیل کا محاصر ختم کرنے اور امدادی تنظیموں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے حوالے سے متفقہ طو ر پر منظور کر لی ہے جبکہ راکین نے امت مسلمہ کو اسرائیلی جارحیت روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی بھرپور مدد کا اعادہ کیا ہے۔بدھ کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران فلسطین پر اسرائیلی جارحیت پر بات کرتے ہوئے سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ اس وقت دنیا میں 2ارب کے قریب مسلمان جبکہ 57کے قریب اسلامی ممالکہیں مگر ہماری آوازوں میں کوئی توانائی نہیں ہے ہم اسرائیل کے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ سکتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر بھی ہم کوئی ہل چل پیدا نہیں کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت ہزاورں بچے موت کے منہ میں جاچکے ہیں اور پورا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے مگر ہم بے دست و پا ہے انہوں نے کہاکہ عرب لیگ کے بیان نے ظالم ومظوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے اس وقت ہماری دل یقین سے عاری ہیں ہمارے لفظ اپنی تسلی کیلئے ہیں انہوں نے کہاکہ کہ میں انفرادی طور پر ایک قرارداد پیش کرتا ہوں جس کے متن کے مطابق میرے غزہ کے نہتے باسیوں اور پھول جیسے بچوں ہم پاکستان کے 25ارب لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے سب کچھ تباہ کردیا ہے اور سب کچھ ظالمانہ بمباری کا نشانہ بن گیا ہے ہم تمھارے دکھ درد میں شریک ہیں مگر ہم تم سے بھی زیادہ بے بس ہیں ہمیں بڑی بڑی طاقتوں کا نام بھی نہیں لے سکتے ہیں جو تم پر ظلم ڈھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں بھی روٹی چاہیے اور ہمیں بھی ڈالر چاہیے اس وقت پوری دنیا میں 2ارب مسلمان نہیں بلکہ راک کا ایک ڈھیر ہے اور ہم بھی اس ڈھر کا ایک حصہ ہیں جو نیل سے لیکر کاشغر تک پھیلے ہوئے ہیں سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہاکہ وقت کے ساتھ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ زیادہ ہوتا جارہا ہے جو چیز جبر اور ظلم کے تحت قائم ہے انہوں نے کہاکہ اسلامی ممالک کی کیا مجبوری ہے لگتا ہے اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں جذبہ نہیں ہے ہم اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں سینیٹر نثار کھوڑو نے کہاکہ ہم نے فلسطین کے مظلومین کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے انہوں نے کہاکہ دنیا میں دو ناسور انڈیا اور اسرائیل پیدا ہوگئے انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر لیا جبکہ اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے انہوں نے کہاکہ ہماری ہمدردیاں فلسطین کے عوام کے ساتھ ہیں سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے ختم ہونے تک یہ جنگ جاری رہے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی عوام کو ختم کرنے تک یہ جنگ جاری رہے گی انہوں نے کہاکہ آج جو قرارداد پیش کی جارہی ہے اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں سینیٹر عمر نے کہاکہ مسلمان ممالک کی کمزوریوں کی وجہ سے اسرائیل نے فلسطین پر ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مسلمان ممالک کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ کوئی بھی ملک فلسطین کیلئے کچھ نہیں کر رہا ہے پاکستان سمیت کوئی بھی ملک کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے آج مجھے شرم آرہی ہے کہ ہم مسلمان ہوکر بھی ان کی مدد نہیں کرسکتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی مسلمان ملک فلسطین کے عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان بہت کچھ کر سکتا ہے مگر ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے ہم اسرائیل کی حمایت میں بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری باتیں صرف باتیں ہیں ہم ایک بوتل پانی کی غزہ میں نہیں بھجوا سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں فلسطینی عوام اور غزہ کیلئے حقیقت پر مبنی اقدامات کرنے چاہیے سینیٹر محمد قاسم نے کہاکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی شروع کی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہاکہ اسرائیل اپنے ہتھیاروں کو فلسطین کے عوام پر چیک کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں سینیٹر کیشو بائی نے کہاکہ فلسطین پر وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کرتے ہیں اسرائیل اس وقت دنیا کیلئے خطرہ بن چکا ہے اور وقت آگیا ہے کہ اس کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے سینیٹر ڈاکٹر خالدہ سکندر میندھرو نے کہاکہ اس وقت امت مسلمہ کے دل زخمی ہیں مگر اب ہمیں کچھ کرکے دکھا نا ہے سینیٹر خالد شاہین بٹ نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا کے عوام فلسطینی عوام کی حمایت کر رہے ہیں یہ انسانیت کا معاملہ ہے انہوں نے کہاکہ اسرائیل حماس کو ختم کرنے کیلئے پاگل ہوچکا ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کا نام و نشان مٹا رہا ہے انہوں نے کہاکہ اسرائیل اقوام متحدہ کے کسی بھی قرارداد پر عمل نہیں کر رہا ہے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان متحد ہوکر اس مسئلے پر آواز اٹھائے یہ آواز پوری دنیا تک جائے گی سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہاکہ آج پوری امت امسلمہ فلسطین کی صورتحال پر غمزدہ اور سوگوار ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ امت مسلمہ کو فلسطین کے مسئلے پر پاکستان میں مدعو کرے سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہاکہ اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں سینیٹر ثناء جمالی نے کہاکہ آج جو فلسطین کے ساتھ ہورہا ہے وہ چند سال بعد کسی دوسرے ملک کے ساتھ ہوگا انہوں نے کہاکہ ہمیں دنیا میں آمن چاہیے اور ہم آمن کے لئے بات کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقوں سے تمام اسرائیلی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ 1ارب 80کروڑ مسلمانوں کی موجودگی میں 62لاکھ کی آبادی والا ملک اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب اسرائیل کی بمباری میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ دوسری جانب مسلم دنیا کے حکمران چھپ کر بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہاہے کہ غزہ کو ویران جزیرہ بنا دونگا کیا ہم اس وقت کا انتظار کریں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت فلسطین میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے انہوں نے کہاکہ جب تک عملی اقدامات نہ اٹھائے جائیں اس وقت تک یہ جنگ ختم نہیں ہوسکتی ہے اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ سمیت تمام سفارت خانوں کو بھجوانے کی ہدایت کی۔
Load/Hide Comments



