کراچی (آن لائن) نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترکا کہنا ہے کہ 2 نومبر کو آئی ایم ایف وفد پاکستان آرہا ہے، انہوں نے کہا کہ پروگرام ٹریک پر ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو معیشت کیلئے ضروری ہے۔ آئی ایم ایف قسط ملنے کے بعد دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے بھی انفلوز ملیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر فراز الرحمان، نائب سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا، چیئرمین ایف بی آر امجد ٹوانہ، ایس ای سی پی کے کمشنر عبد الرحمان وڑائچ، سینئر نائب صدر نگہت اعوان، سی ای او کائیٹ لمیٹڈ زاہد سعید، سابق صدور و چیئرمین فرحان الرحمان، مسعود نقی، احتشام الدین،جوھر قندھاری،سید فرخ مظہر، راشد احمد صدیقی، شیخ عمر ریحان، سلیم الزماں و دیگر موجود تھے۔نگراں وزیر خزانہ شمشاداختر نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات سے کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آرہی ہے، شرح سود کا تعینوزارت خزانہ نہیں اسٹیٹ بینک کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کی تکلیف کا احساس ہے اور ہر پلیٹ فارم سے صنعتکاروں کی شکایات سن کر حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر معاشی بحالی کا پلان تیار کرلیا ہے جس پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کو آپریشنل کرنے کے لئے کابینہ سے منظوری لے رہے ہیں۔ معاشی بحالی کے پروگرام کا مقصد نجی شعبہ کی قیادت میں پائیدار ترقی حاصل کرنا ہے جبکہ معیشت کی بحالی میں نجی شعبہ کا کردار اہم ہے، اسی طرح چھوٹی صنعتیں معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ پہلی مرتبہ 14 ماہ میں لارج اسکیل اور پاور سیکٹر نے گروتھ کی ہے جبکہ سیمنٹ اور ٹریکٹرز کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسمگلنگ، سٹے بازی کی روک تھام پر بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ شمشاداختر نے مزید کہا کہ ایف بی ا?ر نے پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف کے ہدف سے زائد ٹیکس وصول کیا، جبکہ حکومت سرکاری اداروں کیلئے بھی اصلاحات لا رہے ہیں۔ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے پروگرامز پر مؤثر طریقے سے عملدرا?مد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں بھی اصلاحات لا رہے کہ تاکہ کمپنیاں کیپیٹل مارکیٹ سے سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔قبل ازیں کاٹی کے صدر فراز الرحمان نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقہ 20 ہزار ایکڑ پر محیط رقبہ ہے، جہاں پاکستان کے بڑے ایکسپورٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے حکومت کاٹیج انڈسٹری کو مساوی حقوق کے ساتھ ریلیف فراہم کرے۔تقریب میں نائب سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا نے کہا کہ نگراں حکومت نے جن مشکل حالات میں ملک کو سنبھالا وہ قابل تعریف ہے۔ بزنس کمیونٹی خوف میں مبتلا تھی۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت نے سٹے بازی اور اسمگلنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جس سے معیشت میں بہتری نظر آرہی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی ا?ر امجد ٹوانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں ریفارمز اور ری اسٹرکچرنگ پر کام جاری ہے، ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔نادرا سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ٹیکس نادہندگان کیخلاف کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں عالمی اداروں سے بھی ڈیجیٹلائزیشن پر معاہدے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 45 لاکھ سے زائد نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا ہے۔کمشنر ایس ای سی پی عبدالرحمان وڑائچ نے کہا کہ چھوٹی کمپنیاں رجسٹر کرکے بڑی کمپنیوں میں منتقل کیوں نہیں ہو رہے، اس وجہ کو جاننے کی ضرورت ہے ساتھ کہ اس پر بھی توجہ دی جائے کہ کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کیوں نہیں حاصل کرتی۔ انہوں نے کہا کہ جب معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی تو محصولات میں بھی اضافہ ہوگا۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین طارق ملک نے کہا کہ کورنگی کا ریونیو میں بڑا حصہ ہے۔ تقریب سے کائیٹ لمیٹڈ کے سی ای او زاہد سعید، سابق صدر مسعود نقی نے بھی خطاب کیا.
Load/Hide Comments



