ترکیہ سے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، صدر،وزیر اعظم

اسلام آباد (آن لائن) صدر،وزیر اعظم نے جمہوریہ ترکیہ کی100 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ترکیہ صدر طیب اردوان اور ان کی عوام کو مبارکباددی ہے۔ اتوار کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں صدر رجب طیب اردوان کو جمہوریہ ترکیہ کی 100 ویں سالگرہ کے پرمسرت موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 29 اکتوبر 1923 کو عظیم رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک کی کرشماتی قیادت میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بہت پرانے ہیں، پاکستان اور ترکیہ کے قیام سے قبل بھی اس خطے کے لوگوں اور ترک عوام کی عظیم دوستی تھی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس خطے سے روسی جنگ میں لڑنے کیلئے امدادی سامان کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کو بھی بھیجا گیا تھا جس کا ترکی نے ہمیشہ مثبت جواب دیا ہے۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے زبردست پیشرفت کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ موجودہ ترک قیادت نے مسلم دنیا کے مسائل کے خاتمہ میں بھی شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شاندار دوستی عالمی مسائل پر باہمی افہام وتفہیم پر مبنی ہے اور ترکیہ کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر نے غزہ میں رونما ہونے والے حالیہ وحشیانہ واقعات پر جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم دنیا غزہ کے اس دردناک مسئلہ اور مسئلہ کشمیر پر بھی جرات مندانہ موقف اختیار کرے گی۔ صدر ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ دنیا یہ بھول گئی ہے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں اناطولیہ اور عندلس میں ہمیشہ تمام مذاہب کے لوگوں کا استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ترکیہ میں میرے بھائی ترک صدر کی جانب سے زبردست پیشرفت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس موقع پر دونوں ممالک کی عوام کے درمیان برادرانہ بندھن کا اظہار کرنا چاہئے جو لازوال ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اتوار کے روزترکیہ کے 100 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ترک عوام کے نام اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ترکیہ کے ساتھ اشیاء کی تجارت کے معاہدے اور تذویراتی اقتصادی فریم ورک پر دستخط سمیت اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، گہری اقتصادی شراکت داری اور مضبوط رابطے آنے والے برسوں میں دوطرفہ تعلقات آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اپنے پیغام میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مذہب، ثقافت اور تاریخ پر مبنی برادرانہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی تذویراتی تعاون اور تذویراتی اقتصادی فریم ورک سمیت ادارہ جاتی طریقہ کارکے تحت دفاع، صحت، تعلیم، زراعت، سیاحت، ثقافت اوراقتصادی شعبوں میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔انہوں نے گزشتہ ایک سو سال کے دوران خصوصاًصدر رجب طیب اردگان کی متحرک قیادت میں ترکیے کی شاندار ترقی کو سراہا اور اس سلسلے میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستانی عوام جمہوریہ ترکیہ کی دوسری صدی کے آغاز پر ترکیہ کے عوام کیترقی و خوشحالی کیلئے دعا گو ہیں، خدا کرے کہ دونوں اقوام کے مابین یہ محبت و احترام کا منفرد رشتہ ہمیشہ ایسے ہی قائم رہے۔