غزہ (آن لائن)غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری سے مزید سینکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ غزہ کا دنیا سے رابطہ بدستور منقطع ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیل نے وائٹ فاسفورس کا استعمال شروع کردیا،فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی فوج کا تین طرفہ حملہ ناکام بنانے اور صیہونی فورسز کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کو ایسے ختم کرنے کا ارادہ ہے جیسے دنیا نے نازیوں اور داعش کو کیا۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن بمباری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کیخلاف وائٹ فاسفورس کا استعمال کیا۔ اسرائیل غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر فضائی، زمینی اور سمندری حملے کررہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ٹینک فلسطینیوں کے گھروں پر گولہ باری کررہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں دندناتے ہوئے اپنے ٹینکوں کی فوٹیج جاری کردی۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کی اسرائیلی فوج کے ساتھ شمال مشرقی غزہ کے قصبے بیت حنون اور وسطی پٹی میں بریج میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائی میں راکٹ حملے کیے گئے۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی کی جانب سے انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے بند کیے جانے کے بعد غزہ کا دنیا سے رابطہ بدستور منقطع ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار علی براکہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے رات بھر غزہ پر زمینی حملے اور بمباری کی تاہم غزہ پر اسرائیلی فوج کا تین طرفہ زمینی حملہ ناکام ہو گیا۔علی براکہ کا کہنا ہے کہ غزہ پر حملے میں دشمن کو فوجیوں اور سامان کے لحاظ سے بھاری نقصان ہوا، دشمن کئی محاذوں پر فلسطینی مزاحمت کے تیار کردہ جال میں پھنس گیا ہے۔حماس کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی حملے پسپا کرنے کیلئے روسی ساختہ ٹینک شکن میزائل اور مقامی طور پر تیار یاسین میزائل استعمال کیے گئے، اسرائیلی فوج نے ہیلی کاپٹروں سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالا۔ دوسری جانب ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں گزشتہ رات کو داخل ہونے والی اسرائیلی فوجی اب بھی موجود ہے، فلسطینی انکلیوو میں فوجی کارروائیوں میں توسیع کی ہے۔ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ آج خوراک، پانی اور ادویات لے جانے والے ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔اْدھر فلسطینی وزیر صحت نے بتایا کہ اسرائیل کے حالیہ آپریشن سے قبل غزہ پر ہونے والی وحشیانہ بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 7400 سے تجاوز کرگئیں جبکہ 21 ہزار کے قریب لوگ زخمی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں سے اب تک 110 فلسطینی شہید اور 1950 زخمی ہوئے ہیں۔ اردن کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شروع کیے جانے والے تازہ آپریشن پر کہا ہے کہ اسرائیل اب دنیا کو جہنم بنانے کی کوشش کررہا ہے، معصوم نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل قابل نفرت اور قابلِ مذمت ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا ہے صیہونی ریاست فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو ایسے ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جیسے دنیا نے نازیوں اور داعش کو ختم کیا۔قبل ازیں گزشتہ روز اقوام متحدہ نے عرب ممالک کی پیش کردہ غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی تھی۔ عرب ممالک کی قرار داد کی فرانس سمیت 120 ممالک نے حمایت کی تھی جبکہ امریکا، اسرائیل اور آسٹریا سمیت 14 ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی تھی۔اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب گیلاد ایردن نے قرارداد مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شرم آنی چاہیے، آج کا دن اقوام متحدہ کیلئے ایک بدنما دھبہ ہے کیونکہ کہ آج ہم نے دیکھا کہ اقوام متحدہ کی ایک اونس کے برابر بھی وقعت نہیں رہی اور اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔ا ب اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے بھی اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو ایسے ختم کرنیکا ارادہ رکھتا ہے جیسے دنیا نے نازیوں اور داعش کے ساتھ کیا تھا۔ دوسری جانب فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل سمجھتا ہے کہ وہ مزاحمتی تحریک حماس ختم کر دے گا تو ایسا نہیں ہو گا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فلسطین کے وزیراعظم محمد اشتیے کا کہنا تھا حماس فلسطینی سیاست کا اہم حصہ ہے، اس کے حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ جاری ہیں۔
Load/Hide Comments



