پاک مسلح افواج اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا ہے،آرمی چیف

راولپنڈی (آن لائن)آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں، عالمی برادریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے ذریعے محفوظ کردہ استصواب رائے کے حق کے لیے کشمیریوں سے اجتماعی وعدے کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے،ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اقوا م متحدہ کے 78 واں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا، پاک فوج کی اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات کی روشن تاریخ ہے،افواج پاکستان کی اقوام متحدہ کے ساتھ امن کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے کی ایک نمایاں اور طویل تاریخ ہے، پاکستان نے 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ کے امن مشن میں شمولیت اختیار کی، پاکستان نے 1969 میں کانگو میں اقوام متحدہ کے آپریشنز میں اپنا پہلا دستہ تعینات کیا، پاکستان نے دنیا بھر کے تقریباً 29 ممالک میں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد افواج کے ہمراہ 48 مشترکہ مشنز میں حصہ لیا، اقوام متحدہ کے امن مشنز میں 170 جوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اس موقع پر پاک فوج کے سربراہجنرل سید عاصم منیر نے اقوام متحدہ کے 78ویں یوم تاسیس کے موقع نیک خواہشات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان زیادہ پرامن، خوشحال اور پائیدار دنیا کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے کی ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے، اس دن، عالمی برادریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے ذریعے صحیح طور پر محفوظ کردہ استصواب رائے کے حق کے لیے کشمیریوں سے اجتماعی وعدے کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں، بزرگوں کے وڑن کے مطابق دنیا کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں چاہے اس کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔دریں اثناء میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے قیام کو 78 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن کشمیر کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی مکمل خاموشی ہے، کشمیر ی اقوامِ متحدہ کی قرارداد وں کے باوجود آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول سے بدستور محروم،اب تک ڈھائی لاکھ کشمیری شہید جبکہ 7 ہزار سے زائد ماورائے عدالت قتل ہوئے،24 اکتوبر 1945 کو اقوامِ متحدہ، سیکیورٹی کونسل اور اقوامِ متحدہ چارٹر وجود میں آئے، اقوام متحدہ اب تک مسئلہ کشمیر پر 5 قراردادیں منظور کر چکا ہے، اپریل 1948 کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 47 کے مطابق کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کو یقینی بنایا گیا، نومبر 1951 کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 96 کے مطابق کشمیر میں آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کروانے کی قرارداد بھی منظور ہوئی، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود ہندوستان کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے سکا، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کو 1948 میں ناجائز طور پر ضم کیا گیا، آرٹیکل 370 کی تنسیخ اقوام متحدہ کی قرارداد 47 کی کھلی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ کشمیر میں اب تک ڈھائی لاکھ کشمیری شہید جبکہ 7 ہزار سے زائد ماورائے عدالت قتل اور ڈیڑھ لاکھ گرفتاریاں ہو چکی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں سوا لاکھ املاک نذرِ آتش جبکہ 12 ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی جا چکی ہے، 2019 کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں سب سے طویل مدتی انٹرنیٹ کی بندش جاری ہے، ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اقوام متحدہ کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔