وزارت قانون الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرے گی،نگران وزیراطلاعات

اسلام آباد(آن لائن)نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ 90 دن میں انتخابات کرانے سے متعلق پٹیشن کا حتمی جواب وزارت قانون دے گی، وزارت قانون الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرے گی، حتمی فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ہوگا،ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں، نجی ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اختیارات اور مدت محدود ہیں، شفاف انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، نگران حکومت آئین و قانون کے تحت قائم ہوئی ہے،کسی کی بے گناہی اور سزا کا فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہے، آئین کے مطابق ہر شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، شکایت اور تنقید کرنا جمہوریت کا حسن ہے،ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سینئر سیاستدانوں وہ اپنے ملک واپس آ رہے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم امن و امان کو قائم رکھیں، کسی قسم کی بدانتظامی یا سیکورٹی کا مسئلہ پیدا نہ ہو، انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا تاثر درست نہیں، الیکشن کمیشن اپنا کام ذمہ داری سے کر رہا ہے، الیکشن کمیشن نے انتخابات جنوری کے آخر میں کرانے کہا ہے، حتمی تاریخ طے ہونا باقی ہے، سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کے لئے 54 دن دیئے جائیں گے،ہر سیاسی جماعت کا اپنا ایک موقف ہوتا ہے، ملک میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی ہے، کسی کو تنقید کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،مسلم لیگ (ن) کا کوئی رہنما کابینہ میں موجود نہیں، نگران حکومت آئین و قانون کے تحت قائم ہے، ہم آئین و قانون پر عمل درآمد کے پابند ہیں، ملک میں آزادانہ، منصفانہ، شفاف انتخابات کرانے کا آئینی ادارہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے، الیکشن کمیشن انتخابات کی جو تاریخ دے گا، اس حوالے سے مالی، انتظامی اور سیکورٹی کے وسائل فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، نگران حکومت نے نجکاری کے حوالے سے اپنے طور پر کسی ادارے کا انتخاب نہیں کیا، نجکاری کے حوالے سے فیصلہ پچھلی حکومت اور پارلیمان کا ہے، پہلے سے منظور شدہ فہرست کے مطابق نجکاری پر عمل درآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے، نگران وزیر برائے نجکاری شاندار انتظامی تجربہ رکھتے ہیں، ریاستی میڈیا تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں کوریج فراہم کر رہا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو پی ٹی وی پر یکساں کوریج مل رہی ہے۔