پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ جو ٹکر کے لوگ ہونے کے دعویدار اصل میں تھپڑ کے لوگ نکلے۔ آج کرسی کیلئے کچھ لوگ اپنے پرانے لیڈران کو گالیاں دے رہے ہیں۔سیاست اور نظریئے پیچھیرہ گئی، مفاد پرست اور لوٹے آگے جارہے ہیں۔ نوتھیہ میں پی کے 81 کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیشہ امن کی بات کریں گے، تشدد کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں نہ کبھی ہونگے۔ ہر ذی شعور فلسطین میں ہونے والی بربریت پر دکھی اور انکے دکھ درد میں شریک ہیلیکن فلسطینیوں کو جن حالات کا سامنا ہے پشتون قوم گذشتہ پچاس سال سے ان حالات سے گزر رہی ہے۔3لاکھ 30ہزار کے قریب فلسطینی بے گھر ہیں، ہم انکے غم میں بھی شریک ہیں لیکن صرف ایک آپریشن میں ایک لاکھ 10ہزار پختون خاندان بے گھر ہوئے، کیا کوئی ہمارے ساتھ بھی آنسو بہائیگا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر بمباری کی نہ مذہب، نہ قانون اور نہ انسانیت میں گنجائش ہے۔ فلسطین کیلئے مارچ کرنے والے پشتون کیا اپنی قوم کے دکھ کی بات کرسکتے ہیں؟ کیا انہی پشتونوں نے اپنی قوم کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف نکلنا تو درکنار ایک بیان تک دیا ہے؟ اے این پی کوتو چھوڑیں، کیا جے یو آئی پر ہونیوالے حملوں کے خلاف کوئی ملین مارچ ہوا؟فلسطین میں جو ہو رہا ہے وہ ظلم اور بربریت ہے اور ہم اسکی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن دنیا کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پختونوں کے ساتھ جو ہورہا ہے یہ بھی ظلم اور بربریت ہے۔ ایمل ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہاں پر جائز ہے کہ آپ پختونخوا کے مساجد میں نمازیوں کو شہید کرے؟ یہ کہاں جائز ہے کہ مذہب کے نام پر بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو سکولوں اور بازاروں میں نشانہ بنائیں۔ ایسے مظالم جانوروں کے ساتھ بھی نہیں ہوتے جوپختون قوم کے ساتھ ہوئے ہیں۔ نظریہ باچا خان یہی ہے کہ ہم ظالم کے خلاف ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پختون خطے میں جہاد کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اسرائیل جاکر جہاد کریں۔ صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ رنگ، مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سب کی خدمت اے این پی کا منشور ہے۔طاقت کا محور عوام ہیں اور عوام کے حق حکمرانی بارے اے این پی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔عوام کے فیصلوں کے علاوہ کسی دوسری قوت کے فیصلے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ پچھلے دس سالوں سے پختونخوا کے عوام کو انکی طاقت سے محروم رکھا گیا ہے۔ پشاور بی آر ٹی کو پی ٹی آئی کے الیکشن کیمپین کے خرچے نکالنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ بی آر ٹی کرپشن کے 32 ارب روپے پرویز خٹک اور انکے ساتھیوں نے دوبئی میں وصول کئے تھے۔ان پیسوں کوامریکہ سے فارن فنڈنگ میں وصول کرکے پی ٹی آئی کے انتخابی مہم میں استعمال کیا گیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ انگریز کی باقیات کا یہ خیال ہے کہ وسائل پختونوں کے جبکہ اختیار انکا ہوگا۔ ہم دوسروں کا حق نہیں مانگتے لیکن اپنے بچے کا نوالہ چھیننا کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔تیل، گیس، بجلی اور معدنیات ہم پیدا کررہے ہیں لیکن پختونخوا کے عوام آج بھی محرومی کا شکار ہیں۔اے این پی کو اختیار ملا تو اٹھارہویں آئینی ترمیم پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔اپنی پن بجلی کا اختیار واپس پختونخوا لاکر عوام کو سستی بجلی فراہم کریں گے۔ کنونشن سے مرکزی سیکرٹری خارجہ امور سید عاقل شاہ، امیدوار پی کے 81 ارسلان خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
Load/Hide Comments



