اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں افغان نژاد ڈنمارک کے شہری کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پییرکوسماعت کی اس دوران نادراکی جانب سے افنان کریم کنڈی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہاکہ درخواست گزار نے پی او سی کی توثیق کیلئے درخواست دی تھی، آئی ایس آئی کی مخالفت پر پی او سی کارڈ کی توثیق نہیں کی گئی، پی او سی کارڈ ان غیرملکیوں کو جاری ہوتا ہے جن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہو، بھارت یا کسی بھی دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے کو کارڈ جاری نہیں ہوتا،چیف جسٹس نے کہاکہ کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ پی او سی کارڈ کی توثیق کی مخالفت کس بنیاد پر کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ درخواست گزار افغان شہری ہے، اہلخانہ کے صرف نام دیے گئے پتہ نہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کیا درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد ہیں؟ چیف جسٹس نے کہاکہ آئی ایس آئی کے پاس ضد کے علاوہ کوئی ٹھوس وجہ ہے تو بتائیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ درخواست گزار کے بہن بھائی کابل اور لوگر میں رہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ابھی خود طورخم اور چمن بارڈر جائیں اور دیکھیں کیا ہے ہو رہا ہے، جس کو دل کرتا ہے پاکستان آنے دیا جاتا ہے جسے دل چاہے روک دیتے ہیں، یہ پیسوں کو دھندا یہاں کھڑے ہوکر نہ کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ بلاوجہ کسی پر شک کرنا انسانی حقوق کیخلاف ہے، درخواست گزار کے بیوی بچے پاکستانی اور ملک میں موجود ہیں، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزار کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، دوران سماعت مداخلت پر عدالت نے درخواست گزار حیات اللہ وفادارکو جھاڑ پلا دی اور چیف جسٹس کی درخواست گزار کی اہلیہ سے دلچسپ مکالمہ بھی ہواجس میں چیف جسٹس نے کہاکہ کیا حیات اللہ گھر میں آپ کی بات سنتا ہے؟ ہماری تو نہیں سن رہا، اس پر درخواست گزارکی بیوی نے کہاکہ گھر میں میری بات سنتا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کیساتھ وفادار ہیں ملک میں رہ سکتے ہیں، بعدازاں سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی گئی۔
Load/Hide Comments



