تہران،دوحہ (آن لائن) ایران نے اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کو غزہ میں بری فوجی کارروائیوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اسرائیل جنگ میں پھیلا ؤ نہیں چاہتے لیکن اسرائیل باز نہ آیا تو مداخلت کرنا پڑے گی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطاب اسرائیل اور حزب اللہ کی ان جھڑپوں پر ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے ۔اقوام متحدہ کے خلیجی ممالک کے خصوصی ایلچی ٹور وینز لینڈ نے ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان سے گفتگو میں پر زور دیا کہ ایران کو غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔جس پر ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے جواب میں کہا کہ ایران نہیں چاہتا کہ حماس اور اسرائیل کا تنازع خطے میں علاقائی جنگ میں تبدیل ہوجائے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ غزہ میں حماس کے پاس یرغمال شہریوں کی رہائی میں مدد کریں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی پر واضح کیا کہ اگر اسرائیل غزہ میں اپنی بری فوج کے ذریعے جنگ کی دھمکی کو عملی جامہ پہناتا ہے تو ایران کو سخت جواب دینا ہوگا۔ایران کی اس دھمکی سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ٹور وینز لینڈ نے اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہانیگبی اور دیگر حکام کو فون کر کے بتایا۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی یہ پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔ملاقات میں غزہ کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کو پہلے کی طرح مسلم دنیا کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کے خلاف صیہونیوں کے جنگی جرائم کی آخری حد ہے کیونکہ فلسطینی قوم کی طرف سے انہیں جو دھچکا پہنچا ہے وہ بے مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے اور ایران فلسطینی قوم کی حمایت میں اپنے اصولوں اور اقدار سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ امیرعبداللہیان نے کہا کہ الاقصیٰ آپریشن اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینی قوم کا فطری ردعمل ہے، ایران اسرائیلی جنگی جرائم کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ملاقات میں اسماعیل ہنیہ نیاسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ حکام کے اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ امید ہے کہ مسلم دنیا فلسطینی قوم کی بھرپور حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے جنگی جرائم، اندھا دھند اور وحشیانہ قتل عام، گھروں، مساجد، اسپتالوں اور عوامی مقامات کی تباہی کے باوجود فلسطینی مزاحمت مضبوط ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شہریوں کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں امن کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ عزم کی توثیق بھی کی۔
Load/Hide Comments



