بیت المقدس کی آزادی کسی زمین یا معیشت کا نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کا مسئلہ ہے،حافظ نعیم الرحمن

کراچی (آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہم سلام پیش کرتے ہیں حماس کے مجاہدین کوجو تعداد میں تو کم ہیں لیکن اسرائیل اور اس کی غاصب افواج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔بیت المقدس کی آزادی کسی زمین، خطے یا معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کا مسئلہ ہے۔ہم وہاں جا کر لڑ نہیں سکتے لیکن صیہونی جارحیت، یہودی آلہ کاروں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجکرسکتے ہیں۔ اہل کراچی تمام تر اختلافات سے بالاتر ہوکر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 15 اکتوبر دوپہر 3 بجے شاہراہ فیصل فلسطین مارچ میں فیملی کے ساتھ شرکت کریں۔ مظلوم فلسطینیوں کی امداد کے لییبھی اہل کراچی مالی تعاون کریں اورزیادہ سے زیادہ تعداد میں غزہ فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اتوار 15اکتوبر کو فلسطینی مسلمانوں اور حماس کے مجاہدین سے اظہار یکجہتی کے لیے اور سرزمین فلسطین و قبلہ اوّل پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف شاہراہ فیصل پر ہونے والے تاریخی اور عظیم الشان ”فلسطین مارچ“ کی تیاریوں و انتظامات کے سلسلے میں نرسری اسٹاپ پر لگائے گئے کیمپ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد،ناظم علاقہ بلال رمضان و دیگر بھی موجود تھے۔بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن نے شہریوں میں ہینڈ بل تقسیم کیے اور فلسطین مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔ علاو ہ ازیں حافظ نعیم الرحمن نے لیاقت آباد ڈاکخانہ، کمپری ہنسیو اسکول(comprehensive school) چورنگی عزیز آباد اوربیت المکر م مسجد گلشن اقبال، پرفیوم چوک گلستان جوہر پر لگائے گئے کیمپوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود کارکنوں و شہریوں سے خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ نگراں وزیر اعظم نے بیان دیا کہ پاکستان دو ریاستی حل کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کی ریاست کا بیان قائد اعظم دے چکے ہیں کہ اسرائیل ایک ناپاک ریاست ہے اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حکمران اگر کسی اور کی زبان بولیں گے تووہ ملک اور ملت کے غدار ہوں گے۔ حکومت پاکستان اور آرمی چیف کا بھی اسرائیل کے حوالے سے دوٹوک بیان آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 58 اسلامی ممالک اور ان کی 70 لاکھ سے زائد افواج کے باوجود بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ حکمرانوں کے لیے باعث شرم ہے، بیت المقدس کی آزادی کی جدو جہد کرنے کے بجائے ہمارے حکمران اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکمران طبقہ آگے بڑھ کر فلسطین کی مدد کرنے سے گھبراتا ہے۔ 75 سال سے فلسطینی مسلمان اسرائیل کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ 18 سال سے غزہ کے چھوٹے سے حصے میں اسرائیل نے محاصرہ کیا ہوا ہے۔ غزہ کے مسلمانوں کو محصور کیا ہوا ہے۔ آگ برس رہی ہے۔ امریکی صدر کو نظر نہیں آرہا کہ فلسطین کے بچوں پر فاسفورس بم برسائے جارہے ہیں۔دریں اثناء جماعت اسلامی کے تحت ”فلسطین مارچ“ کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، شہربھر میں عوامی رابطہ مہم تیزی سے جاری ہے، مرد و خواتین کارکنان اور ذمہ داران بڑے پیمانے پر لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں اور عوام کے اندر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے زبردست جو ش و خروش پایا جاتا ہے۔جمعہ کے روز شہر بھر میں بڑی شاہراؤں و سڑکوں اور اہم پبلک مقامات و چورنگیوں پر کیمپ لگائے گئے جہاں سے شہریوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے۔ نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں مساجد کے باہر لاکھوں کی تعداد میں ”فلسطین مارچ“ کے ہینڈ بل تقسیم کیے گئے۔ بڑی تعداد میں کارنر میٹنگز اور مظاہرے بھی کیے گئے اور جگہ جگہ موبائل پبلیسٹی کے ذریعے بھی عوام کو ”فلسطین مارچ“ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مارچ میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں، مختلف طبقات سے وابستہ افراد، تاجر، صنعت کار، مزدور و محنت کش، علماء کرام، وکلاء، اساتذہ، طلبہ و طالبات، ڈاکٹرز،انجینئرز، سول سوسائٹی، اقلیتی برادری کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد میں شرکت کے پیش نظر بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شاہراہ فیصل پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ”فلسطین مارچ“ اتحاد امت، ملت کی وحدت اور اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کا بھر پور مظہر ثابت ہو گا.