سیالکوٹ کو استحکام پاکستان پارٹی کا قلعہ بنائیں گے، ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ (آن لائن)سابق وفاقی وزیر اور استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کو استحکام پاکستان پارٹی کا قلعہ بنائیں گے، اس سلسلے میں استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین کی قیادت اور صدر عبدالعلیم خان کی صدارت میں سیالکوٹ کے نوجوانوں کو متحد اور متحرک کر کے انکے بکھرے ہوئے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی تا کہ نوجوان نسل ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی پی پی سیکریٹریٹ سیالکوٹ میں سابق ایم پی اے طاہر محمود ہندلی اور سابق صوبائی وزیر چوہدری اخلاق احمد سے ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ملاقات میں سیالکوٹ کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور استحکام پاکستان پارٹی کو ضلعی سطح پر فعال بنانے کی حکمت عملی مرتب کرنے سمیت دیگر سیاسی امور کا جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے بھی امور زیر بحث آئے۔ سابق وفاقی وزیر اور آئی پی پی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کم ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ بندیاں مناسب عوامی نمائندگی نہیں کرتیں اس لئے الیکشن کمیشن ان حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹس لے۔انہوں نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو موثر کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کی۔ ملاقات میں تینوں رہنماوں نے سیالکوٹ کو استحکام پاکستان پارٹی کا قلعہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین کی قیادت اور صدر عبدالعلیم خان کی صدارت میں سیالکوٹ کے نوجوانوں کو متحد اور متحرک کیا جائے گا اور ان کے بکھرے ہوئے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی تا کہ نوجوان نسل ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ملاقات میں عثمان ڈار کے وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد کی سیاسی صورت حال پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا اور سیالکوٹ کے سیاسی منظر نامے پر ممکنہ امیدوار میدان میں اتارنے کے ساتھ ساتھ انتخابات سے جڑے دیگر حالات و واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سابق وفاقی وزیر اور آئی پیپی کی مرکزی رہنما نے دیگر سیاسی رہنماوں سمیت آج اپنے عوامی ڈیرہ کوبے چک میں غیر سرکاری تنظیم چانن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات میں ایک بار پھر سیالکوٹ سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کم ہونے کو سیالکوٹ کے لوگوں کا سیاسی استحصال قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اس کے مداوے کی درخواست کی۔