کس بنیاد پر برطرف کیا گیا؟ ملازم کیخلاف کریمنل مقدمہ بننا چاہیے،چیف جسٹس

اسلام آباد (آن لائن)چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ ججز بیرون ملک جانے کیلئے این او سی لیتے ہیں، جعل سازی پر حساس ادارے کی ملازمت سے برطرف ہونیوالے ملازم کیخلاف کریمنل مقدمہ بننا چاہیے تھا، اس عدالت کا ہر منٹ قیمتی ہے، عدالتیں عوام کے پیسوں چلتی ہے،سپریم کورٹ نے ملازمت سے برطرفی کیخلاف دائر درخواست واپس لینے کی بناکرنمٹادی۔درخواست گزارپربنا اجازت چار بار بیرون ملک جانے، بزنس اور ویب سائٹس چلانے کے الزام تھے جس کی وجہ سے انھیں نوکری سے فارغ کیاگیاتھاچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست گزار ایک حساس ادارے میں کام کرتا تھا، کس الزام کی بنیاد پر درخواستگزار کو ملازمت سے برطرف کیا گیا؟ایسے شخص پرتوفوجداری مقدمہ بنتاہے انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیے ہیں، عدالت کو بتایاگیاکہ بنا اجازت چار بار بیرون ملک جانے، بزنس اور ویب سائٹس چلانے کے الزام ہیں،اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ ججز بھی بیرون ملک جانے کیلئے این او سی لیتے ہیں،نیسکام نے صرف نوکری سے نکالا، مقدمہ بھی دائر کرتے، اس پردرخواست گزار کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعاکی اورعدالت نے درخواست واپس لینے کی بناپر مٹادی۔