یوکرین کے ساتھ جنگ کے بعد چین اور روس درمیان تعلقات مزید مستحکم

بیجنگ/ماسکو(آن لائن)یوکرین کے ساتھ جنگ کے بعد چین اور روس درمیان تعلقات مزید مستحکم، دونوں ایک دوسرے کے مزید قریب آگئے، رواں سال چینی صدر کے دورہ روس کے بعد ولادیمیر پیوٹن نے بھی دورہ چین کی دعوت قبو ل کرلی،اکتوبر میں چین کا دورہ کرینگے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسٹرٹیجک اتحادی چین او ر روس نے اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلئے تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے یوکرین جنگ کے بعد مزید ایک دوسرے کے قریب آنے کے بعد روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اکتوبر میں چین کا دورہ کرنے کی دعوت قبو ل کرلی ہے رواں سال چین کے صدر نے بھی روس کا دورہ کیا تھا اور یوکرین جنگ پر روس کی حمایت کرتے ہوئے تنقید کرنے سے انکا ر کردیا تھا چین اور روس ایک دوسرے کو اسٹریٹجک اتحادی قرار دیتے ہیں، دونوں ممالک اکثر اپنی لامحدود شراکت داری اور اقتصادی و عسکری تعاون پر زور دیتے ہیں۔دونوں ممالک گزشتہ برس فروری میں یوکرین میں روس کے حملے کے آغاز کے بعد اور بھی نزدیک آگئے ہیں، اس حملے پر چین تنقید کرنے سے انکار کر چکا ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کے بعد پیوٹن نے ٹیلی ویڑن پر نشر پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چینی صدر کی جانب سے اکتوبر میں دورہ چین کی دعوت قبول کرنے پر خوشی ہے۔رواں برس مارچ میں چینی صدر شی جن پنگ نے روس کا سرکاری دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اور پیوٹن نے مغربی ممالک کے خلاف متحدہ محاذ کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔چینی وزیرخارجہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کے تازہ ترین سلسلے کے تحت روس کے 4 روزہ دورے پر ہیں۔روس نے یوکرین حملے کے آغاز کے بعد سے چین کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے، اس حملے نے روس کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔چین نے روس کو اہم سفارتی اور معاشی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے یوکرین کے تنازع میں خود کو ایک غیر جانبدار فریق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے