نیویارک(آن لائن) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ عالمی تنازعات سے 1 ارب سے زائد افراد متاثر ہیں، عالمی چیلنجزسے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا،عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں دنیا کے ساتھ ملکر چلنا ہوگا، اقوام متحدہ عالمی امن کیلئے کام کرے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے78ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا میں امن کیلیے کام کرے، عالمی تنازعات سے 1 ارب سے زائد افراد متاثر ہیں، بطور امریکی صدر اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہوں، موجودہ مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔عالمی تنازعات سے ایک بلین کے قریب آبادی متاثرہو رہی ہے، موجودہ چیلنجزسے نمٹنے کے لئے دنیا میں امن کی صورتحال کو بہتربنانا ہوگا۔ اقوام متحدہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردارجاری رکھے، کوئی بھی ملک تنہا حالیہ چیلنجز سے نمٹ نہیں سکتا، دنیا میں اقوام متحدہ کے مختلف منصوبے امن سمیت مختلف شعبوں کی بہتری کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں، مختلف ممالک کیدرمیان تنازعات کا پرامن حل نکلنا چاہئے۔۔جوبائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ یو این کے منصوبے مختلفشعبوں کی بہتری کے لیے کردار ادا کررہے ہیں،امریکا سب کے لیے محفوظ، خوشحال اور مساوی دنیا کا خواہاں ہے، امریکا کا مستقبل آپ سب سے وابستہ ہے،موجودہ مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں درکار ہیں، امریکا کی شراکت داریاں کسی دوسرے ملک پر قبضے کے لیے نہیں ہیں،موسمی تبدیلیاں انسانیت کے لیے خطرہ ہیں،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے یو این کو واضع روڈ میپ وضع کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا ماحولیاتی اور دیگر عناصر پر چین کے ساتھ بھی مل کر کام کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ دنیا متحد ہو کر ہی تمام انسانوں کی بہتری کا مشن پورا کرسکتی ہے، امریکا سب کے لئے محفوظ، خوشحال، مساوی دنیا کا خواہاں ہے۔ امریکی صدر نے سعودی عرب اور اسرائیل کے ذریعے ہندوستان کو یورپ سے جوڑنے کے لیے ایک نئے اعلان کردہ ریل منصوبے کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح اسرائیل کا اپنے ہمسایوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نارملائزیشن اور اقتصادی رابطہ مثبت اور عملی اثرات مرتب کر رہا ہے، یہاں تک کہ جب ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کے لیے انتھک محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو بائیڈن نے افریقی یونین (اے یو) اور مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری ایکواس (ECOWAS) کی حمایت کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ نائجر اور گیبون میں حالیہ بغاوتوں کے خلاف سخت رد عمل دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان اقدار سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جو ہمیں مضبوط بناتی ہیں، ہم جمہوریت کا دفاع کریں گے جو دنیا بھر میں ہمیں درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ بائیڈن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کثیر القومی ہیٹی فورس کو اختیار دینے پر زور دیا۔بائیڈن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ہیٹی میں سلامتی کی بحالی میں مدد کے لیے ایک کثیر القومی فورس کو اختیار دے۔انہوں نے فورس کی قیادت سے متعلق رضامندی پر کینیا کا شکریہ بھی ادا کیا۔روس، یوکرین تنازعہ کے حوالے سے جو بائیڈن نے زور دے کر کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کا ذمہ دار اکیلا روس ہے اور وہ اکیلا ہی اس تنازع کو ختم کر سکتا ہے۔امریکی صدر نے روسی حملے کے خلاف کیف کی حمایت کے لیے واشنگٹن کے عزم کی بھی تجدید کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی جارح کو مطمئن کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو کیا اس ادارے کا کوئی رکن ملک اس بات پر اعتماد محسوس کر سکتا ہے کہ وہ محفوظ ہیں؟، اگر آپ یوکرین کو تراشنے دیتے ہیں تو کیا کسی بھی قوم کی آزادی محفوظ ہے؟۔جو بائیڈن نے تقریباً 30 منٹ میں اپنی تقریر ختم کی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، موسمیاتی تبدیلی اور یوکرین کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ذمہ داری سے منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Load/Hide Comments



