اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے آج پانچ رکنی بینچ کا مختصر فیصلہ پڑھ کر دکھ و افسوس ہوا،فیصلے میں ساس کی آڈیو کے علاوہ ساری باتیں موجود ہیں،آپ کی ساس ہے جن کی وہ آڈیو ہے اور آپ ہی بینچ کے سربراہی کررہے ہیں،آڈیو میں جن جج صاحبان کا ذکر ہے رضا کارانہ بینچ سے الگ ہونا چاہیے تھا۔ ایک پریس کانفرنس میں آڈیو لیکس کمیشن کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ فیصلے میں ساس کی آڈیو کے علاوہ ساری باتیں موجود ہیں، آپ کے اپنے ساتھیوں نے بینچوں کی تشکیل کو ون مین شو قرار دیا۔ مزید کہا کہ دور کا بھی رشتہ ہو تو خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا کیس سامنے نہ لگے، آج دکھ اور افسوس ہوا جب پانچ رکنی بینچ کا مختصر فیصلہ پڑھا،آپ کی ساس ہے جن کی وہ آڈیو ہے اور آپ ہی بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔عطا تارڑنے مزید کہا کہ آج کہا گہا کہ مبینہ آڈیو ہے تحقیق نہیں ہوئی کہ آڈیو اصلی ہے یا نہیں، اوّل تو آپ کو اس بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا، اندازہ ہے کہ آپ جانے سے پہلے آڈیو کیس کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، آڈیو میں جن جج صاحبان کا ذکر ہے رضا کارانہ بینچ سے الگ ہونا چاہیے تھا۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ فیصلے میں آڈیو لیکس سے متعلق نہیں لیکن الیکشن سے متعلق بات کی گئی، ہم نے توآڈیو لیکس سے متعلق کمیشن بنایا تھا اس کو چلنے نہیں دیا گیا، ساتھی جج بینچ سے الگ ہوئے اس سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے، ساتھی جج نے کہا کہ ون مین شو ہم نے نہیں کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اس آڈیو کی تصدیق کے لیے بنایا گیا، آپ نے اس آرڈر پر اسٹے دے دیا، آپ کو اس بینچ کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا، آپ کسی اور جج کی سربراہی میں بینچ بنا دیتے، منیب صاحب کو بھی الگ ہونا چاہیے تھا۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ آڈیو لیک کے فیصلے سے الیکشن کے معاملات کا کیا تعلق ہے؟ تحقیق ہو جاتی اور آپ کی ساس بے گناہ ثابت ہو جاتیں تو اور بات تھی.
Load/Hide Comments



