گورنر پنجاب برطرفی کیس کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل لارجر بینچ نے عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر پنجاب برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔عمر سرفراز چیمہ اپنے وکیل بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنر کی تعیناتی کسی مخصوص مدت کے لیے ہوتی ہے؟صوبے میں گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے گورنر کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم صدر کو ایڈوائس دے مگر اسے ہٹانے کا اختیار نہ ہوجس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کسی بھی صوبے میں صدر کا ایجنٹ ہوتا ہے اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صدر گورنر کے ذریعے صوبہ چلاتا ہے؟ جس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ نہیں، گورنر ہاؤس چلاتا ہے اور صدر کی خوشنودی سے کام کرتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر یہ تعیناتی وزیراعظم کی ایڈوائس پر کیوں ہوتی ہے؟ جس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کو ہٹانے کے دو طریقے ہیں پہلا طریقہ استعفی ہے،گورنر اپنا استعفی کابینہ نہیں صدر کو بھجوا سکتا ہے،اگر صدر سمجھے کہ ہنگامی صورتحال ہے تو کسی ایڈوائس کے بغیر ایمرجنسی لگا سکتا ہے اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ گورنر مجلس شوری کا ممبر نہیں ہوتا کس کی نمائندگی کرتا ہے؟یہ تو بڑا عجیب ہو گا کہ گورنر کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم صدر کو ایڈوائس دے مگر اسے ہٹانے کا اختیار نہ ہو جس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کیا صدر کا آفس صرف ڈاکخانہ ہے؟گورنر کو ہٹانے کا صوابدیدی اختیار صدر کے پاس ہے عدالت نے کہا ک یہ آئینی ایشو ہے، اس پر اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں عدالت نے عمر سرفراز چیمہ کی بطور گورنر برطرفی پر اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج بروز بدھ تک ملتوی کر دی