واشنگٹن / بیجنگ (آن لائن) امریکہ نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے لڑاکا طیارے کو روکنے اور جاسوس طیارے جیسے معاملات کے باوجود چین کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں، یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ صورتحال کو کم کرنے کیلئے اہم ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ ہفتے ہوا بازی کے ایک واقعے کے بعد مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کرے۔ انہوں نے اس واقعہ میں ایک چینی پائلٹ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔بلنکن نے سویڈن کے دورے کے دوران گفتگو میں کہا میرے خیال میں یہ صرف ہمارے دونوں ممالک کے لیے اہم ہے کہوزرائے دفاع سمیت باقاعدہ رابطے کھلے رہیں۔بلنکن نے یہ مطالبہ اس حوالے سے کیا ہے کہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ چین نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ بات چیت کرنے سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ امریکہ کو فوری طور پر ان خطرناک اشتعال انگیزیوں کو روکنا چاہیے۔چینی فوج نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ایک امریکی جاسوس طیارہ جو گزشتہ ہفتے بحیرہ جنوبی چین پر تصادم میں ملوث تھا نے فوجی تربیتی علاقے میں “دراندازی” کی تھی۔ چینی فوج کے ترجمان ڑانگ نانڈونگ نے کہا کہ امریکی جاسوس طیارہ ”آر سی۔ 135“ جان بوجھ کر ہمارے تربیتی علاقے میں داخل ہوا تھا تاکہ جاسوسی اور مداخلت کی جا سکے۔ چین نے ایک بیان میں کہا کہ چین نے قوانین اور ضوابط کے مطابق امریکی طیارے کو ٹریک کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک طیارہ بھیجا تھا۔
Load/Hide Comments



