ملک دشمن عناصر باز آجائیں، قانون ہاتھ میں لینے والے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا، شہبازشریف

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے خبردار کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر اپنی سرگرمیوں سے باز آجائیں، ورنہ قانون ہاتھ میں لینے وشرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا، شرپسندوں کو آئین اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملے گی،سیاست میں انتقامی کارروائیوں کا کبھی اچھا انجام نہیں ہوتا، پی ٹی آ ئی کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور تھا،ہماری نیک نیتی کا ثبوت ہے کہ ہمیں نیب سے سہولت حاصل کرنے کا طعنہ دینے والا عمران نیازی آج خود نیب کا پہلا بینفشنری بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے بدھ کی رات قوم سے خطاب میں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میثاق جمہوریت سیاسی انتقام دفن کرنے کی دستاویز ہے، جب حکومت سنبھالی تو گزشتہ حکومت جیسا بدنما اور ظالمانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا، ملکی سیاسی تاریخ بہت تلخ رہی ہے،اس معاملے پر کوئی نوٹس نہیں لینے والا تھا، ان کے دور میں ملکی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دور تھا، حکومتی لیڈر اپوزیشن کی گرفتاری ایک دن پہلے بتا دیتے تھے، اندھے سیاسی انتقام کی آگ سے ملک و قوم کی ترقی متاثرہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی کی پہلی دو قطاروں میں بیٹھے رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گرفتار کیا گیا، صرف الزامات پرہی لیڈرز کو گرفتار کرلیا جاتا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا گزشتہ چار سالوں میں کیس نہیں فیس دیکھا جاتاتھا یعنی مقدمہ نہیں چہرہ ، کس کو جیل بھجوانا ہے اور کس کے ساتھ رعایت ،یہ اعلان پہلے ہوجتا تھا،حکومتی وکیل جاہ و جلا ل کے ساتھ اعلان کرتے تھے فلاں گرفتار ہونا ہے فلان نہیں۔عمراننیازی کہتا تھا کل ایک اور وکٹ گرنے والی ہے اور اگلے دن وہ وکٹ گر جاتی تھی ۔محض الزمات پر گرفتاریاں ہوجاتی تھیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ رانا ثناء اللہ پر ہیروئن کا شرمناک مقدمہ ڈالا گیا ، سیاسی مخالفین کی بہنوں بیٹیوں،عزیزوں کو کو معاف نہیں کیا گیا۔ پرانے نیب قانون کے تحت 90روز کیلئے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا ہم اس ظالمانہ قانون میں ترمیم کروائی۔ریمانڈ کی مدت 15روز کردی۔ پاکستان خاص طور پر کاروباری برادری،بیورو کریسی کو مشکلات کے پیش نظرہم نے نیب کے ظالمانہ قوانین میں ترامیم کیں۔یہ ہماری نیک نیتی کامنہ بولتا ثبوت ہے جبکہ جب ہم جب اس ظالمانہ قانون کی نشاندہی کرتے اور ترمیم کی بات کرتے تھے تو ہم پر الزامات عائد کئے جاتے کہ ہم چو ر ڈاکو ہیں، این آر او مانگ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی ان تلخ حقیقتوں سے سبق سیکھا ہے اور سیاسی انتقام کو دفن کرکے قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے کی ایک نئی تاریخ لکھی جس سے میثاق جمہوریت کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج نیب ترامیم کا سب سے پہلے جس کو فائدہ ہوا ہے، اس کا نام عمران نیازی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں اور میرے ساتھی آج بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں، ہمارے اوپر جو الزامات لگائے گئے تھے جو غلط ثابت ہوئے، برطانیہ سے بھی تحقیقات کروائیں گئی اور نیشنل کرائم ایجنسی نے ہمیں کلین چٹ دی جو پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی عزت میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی عدالت اور قانون کا سامنا کرنے سے انکار نہیں کیا، ہم نے شدید تحفظات اور اعتراضات کے باوجود بھی قانون کا سامنا کیا، قانون اور عدالت کے سامنے پیش ہوتے رہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف نے اپنی بے گناہ بیٹی کے ہمراہ انتہائی بہادری کے ساتھ 100 سے زائد نیب عدالت کی پیشیاں بھگتیں حتیٰ کی ہفتے کو بھی عدالت میں پیش ہوتے رہے اور بستر مرگ پر آخری سانس لیتی میری بڑی بہن کلثوم نواز کو چھوڑا اور بیٹی مریم کا ہاتھ پکڑ کر جیل چلے گئے وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہی ہے کہ آپ قانون اور عدالت میں اپنے حقوق کی جنگ لڑیں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا قطعی دہشت گردی کا عمل ہے، طاقتور اور کمزور سب قانون کے سامنے برابر ہیں، یہی درس اسلام کا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ آج27دسمبر2007کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کی مثال دونگا جس کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنو ں نے صبرو تحمل کا مظاہر ہ کرکے حب الوطنی کا ثبوت دیا جسے تاریخ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی ،آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک دشمن کو پیغام دیا ہم نے پاکستان کو ترقی دینی ہے اور اسے خوشحال ملک بنانا ہے۔ایسی کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں جب قیادت اور ور کارکنوں نے عدالت،قانون پر عمل کیا ۔عمران نیازی کی گرفتاری القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں ہوئی اور اس کی نیب انکوائری کررہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بطور سیاسی کارکن کسی کی گرفتار پر خوشی کااظہار نہیں کرسکتے، 60 ارب روپے کے معاملے کو بند لفافے کے ذریعے کابینہ سے منظور کرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب معاملہ قومی خزانے کے 60 ارب روپے کا ہو تو کیا اسلام، قانون اور جمہوریت میں کوئی بھی یہ اجازت دے سکتا ہے کہ ملزم عدالت اور قانون کا سامنا کرنے سے انکار کردے۔