اسلام آباد (آن لائن) پاکستان سے یومیہ لاکھوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے افغانستان سمگل ہونے کا انکشاف، افغانستان کی معیشت مستحکم، پاکستانی معیشت کمزور تر ہوتی جارہی ہے،افغانی کرنسی فی ڈالر 89.96 تک آگئی ہے جو کہ دسمبر 2021 میں 124.18 فی ڈالر پر تھی، سمگلنگ کے باعث یورپ، امریکہ کی جانب سے طالبان کو غیر ملکی بینکوں میں رکھے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی دینے سے انکار کے باوجود افغان معیشت کو سہارا ملنے لگا، ہر ہفتے افغانستان کی مرکزی بینک مارکیٹ سے کم از کم ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر ذخیرہ کرتی ہے، پاکستان کے ناقص امیگریشن نظام، تجارتی پالیسیوں اور بارڈر کنٹرول کی وجہ سے مسئلہ درپیش،ہر روز ہزاروں افراد بغیر ویزا کے سرحد پار کرتے ہیں جن میں کچھ لوگ اپنے ساتھ ڈالر بھی لے جاتے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان سے یومیہ لاکھوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے افغانستان اسمگل ہو رہے ہیں۔ پہلے ہی معاشی عدم استحکام کا شکار پاکستان سے ہر روز لاکھوں ڈالر افغانستان اسمگل کیے جارہے ہیں جس سے افغانستان کی معیشت کو تقویت مل رہی ہے جبکہ پاکستانی معیشت کمزور ہو رہی ہے۔پاکستان سے ہر روز لاکھوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے افغانستان اسمگل کیے جارہے ہیں جس سے افغانستان کی سکڑتی ہوئی معیشت کو کچھ حد تک سہارا مل رہا ہے، باوجود اس کے کہ یورپ اور امریکا نے طالبان کو غیر ملکی بینکوں میں رکھے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی دینے سے انکار کردیا تھاتاہم پاکستان کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ ڈالر کی اسمگلنگ سے تیزی سے بڑھتے معاشی بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل محمد ظفر پراچا نیکہا کہ تاجر اور اسمگلرز ہر روز کم از کم 50 لاکھ ڈالر سرحد پار اسمگل کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر ہفتے افغانستان کی مرکزی بینک مارکیٹ سے کم از کم ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر ذخیرہ کرتی ہے۔غیر قانونی طور پر ڈالر کی اسمگلنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 میں حکومت میں آنے کے بعد طالبان کس طرح معاشی پابندیوں سے نبرد آزما ہیں۔ڈالرز کی افغانستان اسمگلنگ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پیدا ہو رہا ہے جبکہ روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس نے ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پہنچا دیا ہے۔کرنسی ڈیلر محمد ظفر پراچا نے کہا کہ ’بغیر کسی شک کے کرنسی افغانستان اسمگل کی جارہی ہے اور یہ فوری منافع دینے والا کاروبار بن چکا ہے۔‘کراچی میں قائم الفا بیٹا کور سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر خرم شہزاد نے کہا کہ ’افغانستان کو یومیہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس کا نصف پاکستان سے اسمگل کیا جارہا ہے۔‘افغانستان کی مرکزی بینک کے ترجمان حسیب نوری کا کہنا ہے کہ ’ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بینک کے پاس زرمبادلہ میں بہت ہی کم ڈالر ہیں۔‘رپورٹ کے مطابق افغانستان کو گزشتہ سال سے ہر ہفتے 4 کروڑ ڈالر کی امدادی رقم اقوام متحدہ سے موصول ہو رہی ہے اور جیسا کہ افغانستان، گلوبل بینکنگ نظام سے منسلک نہیں ہے اس لیے اقوام متحدہ سے آنے والی امدادی رقم کابل میں نقد کی صورت میں دی جاتی ہے جس کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈالر کی ترسیل اور مقامی کرنسی کی طلب کی وجہ سے افغانی کرنسی فی ڈالر 89.96 تک آگئی ہے جو کہ دسمبر 2021 میں 124.18 فی ڈالر پر تھی۔ادھر اسی دور میں پاکستانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے 37 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوری کے آخر تک پاکستانی کرنسی میں ایک دن میں تقریباً 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو کہ کم از کم دو دہائیوں میں سب سے بڑی گراوٹ ہے جس کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے کے لیے نرمی دکھا کر ڈالر پر مصنوعی کنٹرول ختم کرنا ہے۔افغان کرنسی گزشتہ ایک سال میں دنیا کی بہترین کرنسی میں شمار ہے جبکہ پاکستانی کرنسی دنیا کی کمزور ترین معیشتوں میں شمار ہے۔حکام نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے پاکستانی روپے کو افغانستان میں قانونی ٹینڈر کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی سے بھی اس کی کرنسی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ فیصلہ برآمد کنندگان کو ڈالر میں تجارت کرنے اور امریکی کرنسی کو ملک میں واپس لانے پر مجبور کرتا ہے۔ پاکستان میں ڈالر تلاش کرنا مشکل ہے، اس لیے وہ ڈالر کے حصول کے لیے پشاور جیسے شہروں میں سرحد کے قریب گرے مارکیٹس کا استعمال کرتے ہیں جہاں وہ سرکاری شرح سے 10 فیصد زیادہ ادا کرتے ہیں۔
Load/Hide Comments



