انقرہ،دمشق(آن لائن)ترکیہ کے جنوب اور شمالی شام میں 7.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ترکیہ میں کم از کم 76 اور شام میں 245 افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی وزارت صحت نے بتایا کہ شام کے حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں شدت کے زلزلے کے بعد کم از کم 237 افراد ہلاک ہو گئے جس کا مرکز جنوب مشرقی ترکی میں تھا۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ حلب، لطاکیہ، حما اور طرطوس کے صوبوں میں 237 افراد جاں بحق اور 629 افراد زخمی ہوئے ہیں۔قبل ازیں ایک مقامی ہسپتال نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک حامی دھڑوں کے زیر کنٹرول شمالی علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں، شام میں اموات کی کل تعداد 245 ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی اے ایف اے ڈی کے مطابق ملک کے جنوب میں کئی صوبوں میں آنے والے شدید زلزلے میں 76 افراد جاں بحق اور 440 زخمی ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق اڈانا، ادیامان، ملاتیا، کہرامانماراس، گازیانٹیپ میں ہمارے 76 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ سنلیورفا، دیارباکر، اداانہ، ادیامان، ملاتیا، عثمانیہ، ہتے اور کلیس میں 440 شہری زخمی ہوئے ہیں، جنوب مشرقی ترکی میں 7.8 شدت کا ایک شدید زلزلہ آیا، جس سے کئی شہروں میں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جبکہ پڑوسی ملک شام میں بھی نقصان پہنچا۔زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 17 منٹ پر تقریباً 17.9 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا، جس کے 15 منٹ بعد 6.7 شدت کا آفٹر شاک بھی آیا،ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ پریزڈنسی (اے ایف اے ڈی) نے پہلے زلزلے کی شدت 7.4 رپورٹ کی،ترک ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں ریسیکو اہلکاروں کو کہرامنماراس اور ہمسایہ شہر غازیانتپ میں عمارتوں کے ملبے کو کھودتے ہوئے دکھایا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق زلزلے اس وقت آیا جب زیادہ تر لوگ اب بھی گھروں میں سو رہے تھے، جس کی وجہ سے ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ادیامان اور ملاتیا شہروں میں بھی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔زلزلے کے جھٹکے وسطی ترکی اور دارالحکومت انقرہ کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردون نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ تمام شہری جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں،ان کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ ہم جلد از جلد اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مل کر اس آفت سے نکل جائیں گے۔
Load/Hide Comments



