اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے عمران خان سے 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر تفصیلی جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ جو کچھ 25 مئی کو ہوا ہے اب دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، 10 ہزار بندے بلاکر 2 لاکھ لوگوں کی زندگی اجیرن نہیں بنائی جاسکتی،جمہوریت کو ماننے والے اس طرح احتجاج نہیں کرتے،عدالت بہت تحمل سے کام لے رہی ہے،عمران خان کو نوٹس کرنے کیلئے مواد کافی ہے اس کے باوجود وضاحت کے لئے ایک اور موقع دے رہے ہیں۔چیف جسٹس کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی خصوصی بینچ نے 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سابق وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی شامل بنچ کا حصہ تھے،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی نمایندگی کر رہا ہوں، بابر اعوان اور فیصل چوہدری کو نوٹس جاری کئے گئے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے نوٹس نہیں کئے تھے صرف جواب مانگے تھے، دونوں وکلا کے جواب بظاہر مناسب ہیں، جوابات کا جائزہ بعد میں لیں گے، پہلے حکومتی وکیل کا مؤقف سن لیتے ہیں۔اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ عمران خان نے تفصیلی جواب کے لیے وقت طلب کیا ہے، عمران خان نے کسی بھی یقین دہانی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، عمران خان نے جواب میں عدالتی حکم سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی، فیصل فرید چوہدری کے مطابق ہدایت اسد عمر سے لی تھیں، فیصل چوہدری کے مطابق ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکتا تھا، بابر اعوان کے مطابق عمران خان کا نام کسی وکیل نے نہیں لیا تھا۔فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالتی حکم شام 6 بجے آیا تھا، اسد عمر نے بتایا کہ انتظامیہ کو ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی ہے۔
Load/Hide Comments



