واشنگٹن(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے سیاسی ساکھ بحال کرنے اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے 10 ماہ کافی ہیں۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سیاست بچانے یا ریاست بچانے میں سے کسی ایک کاانتخاب کرنا تھا اور ہم نے ریاست کو بچانے کا انتخاب کیا، ہم جانتے تھے کہ اس فیصلے کے ہماری سیاست پر منفی نتائج ہوں گے لیکن ہم نے ریاست بچانے کا انتخاب کیا۔ ضمنی انتخاب کے نتائج پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ جو جماعتیں اس حکومت میں شامل ہیں وہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے نتائج سے آگاہ تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایسا کیا کیونکہ یہ جماعتیں اگر ایسا نہ کرتیں تو اس کے پاکستان کے لیے تباہ کن نتائج ہوتے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کو جاری رہنے دینا سیلاب سے بھی بدتر ہوتا۔ پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق صدر جو بائیڈن کے بیان سے عمران خان کی انتخابی مہم کو تقویت ملی کے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ ملک میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے اور امریکی حکام بھی اکثر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن جب کوئی سیاست دان جیسے کہ عمران خان جو خود وزیر اعظم رہ چکے ہیں جب اس طرح کی بات کرتے ہیں کہ میرے دور میں جوہری پروگرام اچھا تھا لیکن اب نہیں تو پھر دنیا اسی طرح کا ردعمل ظاہر کرے گی، آپ کو اس کی مذمت کرنی چاہیے، وہ بہت گری ہوئی سیاست کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں اپنے 4 روزہ قیام کے دوران انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہوں اور امریکی، سعودی اور دیگر ممالک کے حکام سے 58 ملاقاتیں کیں، انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور برطانیہ نے سیلاب سے متعلق گول میز کانفرنس کی بھی میزبانی کی جہاں یو این ڈی پی، اے ڈی بی اور ڈبلیو بی کے حکام نے مشترکہ رپورٹ پیش کی۔پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پاکستان کو مجموعی طور پر 32 ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے، پاکستان کو فوری امداد اور بحالی کے کاموں کے لیے 16 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ نے بتایا کہ اجلاس کے دوران عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کرنے کی پرزور اپیل کی گئی۔
Load/Hide Comments



