پاکستان سولر انرجی، پینے کے صاف پانی، گندے پانی اور آلائشوں کی ترسیل کے شعبوں میں جاپانی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہپاکستان سولر، ونڈ اور ہائیڈل جیسے قابل تجدید توانائی کے ڈرائع سے استفادہ کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ تیل، گیس اور دیگر مہنگے ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والا خطیر زرمبادلہ ہماری معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہے۔وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار جاپان کے پارلیمانی نائب وزیر برائے معیشت، تجارت اور انڈسٹری عزت مآب جناب ستومی ریوجی کی قیادت میں پاکستان میں موجود جاپانی کمپنیوں کے وفد سے گفتگو کے دوران کیا۔ملاقات میں پاکستان میں جاپان کے سفیر وادا متسوہیرو بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے کہا پاکستان شمسی توانائیسے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے نہ صرف ایک موثر سرمایہ کاری پلان تیار کر لیا ہے بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی پری بڈ کانفرنس ھی منعقد کی جا چکی ہے۔ اس سولرائزیشن پراجیکٹ کے تحت سولر پارکس لگائے جائیں گے، اور سرکاری عمارتوں، کاروباری مراکز اور ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کر کے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جائیگا۔وزیر اعظم نے جاپانی کمپنیوں کو اس اہم منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہو? انہیں ہر طرح کی سہولت اور آسانی کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) موڈ کے تحت کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی ٹریٹمنٹ اور آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے منصوبوں میں جاپانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا بھی خواہاں ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے پاکستان میں حالیہ تاریخی سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر جاپان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ہمدردی کے جذبات اور 70 لاکھ ڈالر کی مالی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔