قوموں کا مستقبل نوجوانوں کے خواب، محنت اور کردار سے تشکیل پاتا ہے

ر قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان نہ صرف کسی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں بلکہ وہی قوموں کے عروج و زوال میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ آج کا دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، عالمی مسابقت اور نت نئی ایجادات کا دور ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کے لیے مواقع بھی بڑھ گئے ہیں اور چیلنجز بھی۔ اگر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ بے روزگاری، تعلیمی نظام کی خامیاں، مہنگائی اور مواقع کی کمی ایسے عوامل ہیں جو نوجوان نسل کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ بہت سے باصلاحیت نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مناسب روزگار حاصل نہیں کر پاتے۔ اس کے نتیجے میں ان میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات معاشرتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ آج ایک نوجوان اپنے گھر بیٹھے دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر کام کر سکتا ہے۔ فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر شعبے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان وقت کے تقاضوں کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو جدید مہارتوں سے ہم آہنگ کریں۔

والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ نوجوانوں کی صرف تنقید کرنے کے بجائے ان کی رہنمائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں نوجوان اپنی رائے کا اظہار کر سکیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ جب نوجوانوں کو اعتماد اور مواقع ملتے ہیں تو وہ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی نوجوان نسل پر سرمایہ کاری کرکے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اگر ہم بھی اپنے نوجوانوں کو جدید تعلیم، تحقیق اور ہنر کے مواقع فراہم کریں تو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہر دور کے نوجوان اپنے وقت کے تقاضوں کے مطابق سوچتے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل خواب بھی بڑے دیکھتی ہے اور انہیں پورا کرنے کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں درست سمت، مناسب رہنمائی اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ جب نوجوانوں کی توانائیاں مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی تو معاشرہ امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر توجہ دینا دراصل مستقبل کی تعمیر ہے۔ اگر ہم آج اپنے نوجوانوں پر اعتماد کریں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیں تو آنے والا کل یقیناً زیادہ روشن، مستحکم اور ترقی یافتہ ہوگا۔

— طاہر خورشید احمد
سینئر کالم نگار