تل ابیب: صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی غزہ میں مسلسل بربریت سے تنگ آئے اسرائیلی شہریوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے اپیل کر دی ہے کہ وہ اسرائیل کے بغیر ہی حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ کر لیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی شہریوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جو بائیڈن سے اپیل کر دی ہے، جب کہ اسرائیل میں یرغمالیوں کی ہلاکت پر حکومت کے خلاف چوتھے روز بھی شدید احتجاج جاری ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے لکھا ہے کہ یرغمالیوں کی حالیہ ہلاکت کے بعد شہری شدید طور پر مشتعل ہو چکے ہیں، اور اسرائیل کی سڑکیں مظاہرین سے بھری رہنے لگی ہیں، پہلے سے جاری مظاہرے اب بڑے پیمانے پر ہونے لگے ہیں، اور وہ نیتن یاہو اور ان کی اتحادی کابینہ پر غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاکہ 90 کے آس پاس باقی ماندہ یرغمالیوں کو وطن لایا جا سکے۔
بی بی سی نے یروشلم سے رپورٹ کیا ہے کہ شہریوں کو اس بات نے توڑ کر رکھ دیا ہے کہ چھ یرغمالی زندہ تھے، اور عین اس وقت انھیں قتل کیا گیا جب انھیں بچایا جا سکتا تھا، مظاہرین میں سے ایک خاتون نے بتایا کہ لوگ اب سمجھ رہے ہیں کہ وہ کنارے پر پہنچ گئے ہیں، اس لیے اب گھروں میں بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
گریٹا تھنبرگ کو ڈنمارک پولیس نے گرفتار کر لیا
نیتن یاہو کے خلاف کافی عرصے سے شہریوں کا احتجاج جاری ہے (جنوری 2023 سے لے کر 7 اکتوبر کو حماس کے حملے تک نیتن یاہو کی عدالتی تبدیلیوں کی تجویز کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے)، لیکن انھوں نے اپنے خلاف احتجاج پر کبھی کان نہیں دھرے، لیبر یونین نے اتوار کی رات ہڑتال کی کال دی تھی لیکن عوام نے اس میں ساتھ نہیں دیا، وہ زندگی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے ہڑتال ختم کر دی گئی۔
اسرائیلی شہری فوری جنگ بندی معاہدہ چاہتے ہیں لیکن نیتن یاہو نے کہا کہ اگر معاہدہ ہوگا تو اس سے حماس کو پیغام جائے گا کہ مزید یرغمالی مار دو، مزید رعایتیں مل جائیں گی۔



