سینیٹر فیصل رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری داخلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، آئی جی ایف سی، رینجرز کے حکام سمیت دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر نسیمہ احسن نے کہا کہ پولیس افسران کو انسانی جان سے عزیز ان کی میٹنگز ہیں۔
سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ یہاں سینیٹرز کی ہی سیکیورٹی نہیں تو پاکستان کی سیکیورٹی کی کیا بات کریں، سندھ میں 2023ء میں ڈاکٹر علی بخت قتل ہوا، قتل میں پولیس انسپکٹر ملوث تھا ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔
سیف اللّٰہ ابڑو کا کہنا ہے کہ گھوٹکی میں صحافی نصراللّٰہ قتل ہوا اس کے قاتل نہ پکڑے گئے، کم از کم صحافیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔
آئی جی سندھ نے مئی کے خط کا جواب جولائی میں دیا، سینیٹر ثمینہ زہری
سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ بار بار بم دھماکوں پر تمام آئی جیز کو خط لکھا، آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ کتنے گرفتار ہوئے کتنے رہا ہوئے، ان تمام کیسز میں صرف 5 ملزمان کو سزا ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ نے مئی کے خط کا جواب جولائی میں دیا، آئی جی سندھ کی جانب سے ہمیں سنجیدہ تک نہیں لیا گیا، کل سی ڈی اے کی وجہ سے 500 لوگوں کی دکانیں اتوار بازار میں جل گئیں۔



