صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان پنجاب کا بجٹ پیش کر رہے ہیں

پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

سپیکر ملک احمد خان کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی اسمبلی میں موجود ہیں۔

وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ پہلا باضابطہ ٹیکس فری بجٹ پیش کیاجارہاہے جبکہ حکومتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لارہے ہیں۔

اپوزیشن اور صحافیوں کا احتجاج

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ پیش کرنے کے موقع پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے آگئے، اپوزیشن نے بجٹ دستاویزات کو پھاڑ کر ایوان میں لہرا دیا، اپوزیشن نے پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اپوزیشن نے مریم نواز کی موجودگی میں ایوان میں ہنگامہ آرائی کی، صحافیوں نے بھی ہتک عزت قانون کے خلاف پریس گیلری سے احتجاجا واک آؤٹ کیا۔

قبل ازیں قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 9 واں اجلاس منعقد ہوا، کابینہ نے اگلے مالی سال 25-2024ء کے لیے 5446 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی، وزیر اعلیٰ نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دیئے۔

پنجاب میں پہلی بار ترقیاتی بجٹ سے 530 ارب کی غیر فعال سکیمز کو بند کر کے نئی سکیمز کو شامل کیا گیا ہے، نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، نہ ہی موجودہ ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔

ٹیکس بڑھائے بغیر مالیاتی ذرائع سے ریونیو میں 53 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا، بجٹ میں 842 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ اخراجات، 630 ارب کا سرپلس بجٹ شامل ہے، سالانہ ڈویلپمنٹ پلان میں 77 نئے میگا پراجیکٹ شامل ہوں گے۔

اس موقع پر پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پیکیج کی بھی منظوری دی گئی، صوبائی کابینہ نے 842 ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی، سابق ریونیو ہدف 625 ارب روپے جبکہ موجودہ ریونیو ہدف 960 ارب روپے مقرر کیا گیا۔

960 ارب ریونیو صوبہ اپنے ذرائع سے اکٹھا کرے گا، پنجاب نے کم ازکم اجرت 32ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کرنے کی منظوری دی، تنخواہوں میں 20 سے 25 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔

مینارٹی ڈویلپمنٹ فنڈ میں پہلی مرتبہ ایک ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا، گندم کا قرض 375 ارب روپے کی ادائیگی کی منظوری، سود کی مد میں 54ارب سے زائد بچت ہوگی۔

لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6 ارب روپے او پی کے ایل آئی انڈومنٹ فنڈ کے لئے 5ارب روپے کی منظوری دی گئی، سوشل پروٹیکشن کیلئے 130 ارب روپے مختص کیے گئے، 110ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔

پنجاب نے ایف بی آر ٹارگٹ سے 36 فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، 2023-24 بجٹ کی سپلیمنٹری گرانٹ کیلئے 268 ارب روپے منظور کیے گئے، مالی سال-24 2023کے سپلیمنٹری بجٹ اسٹیٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔

زرعی آلات کیلئے 26 ارب، کسان کارڈ 10 ارب، سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام 30 ارب، سی ایم ڈسٹرکٹ ایس جی ڈی پروگرام کیلئے 80 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔

لاہور ڈویلپمنٹ کیلئے 35 ارب، مری کے لئے 5ارب، لائیو سٹاک کارڈ کیلئے 2 ارب، ہمت اور نگہبان کارڈ کیلئے 2ارب، ری اسٹرکچرنگ ایجوکیشن کیلئے 26ارب روپے کی منظوری دی گئی۔